ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2006 |
اكستان |
|
٭ جب آپ ۖ کسی سفر سے واپس ہوتے تو رات کے وقت گھر میں ہرگز تشریف نہیں لے جاتے بلکہ راستہ میں کہیں ٹھہرجاتے اور پھر صبح کے وقت دولت خانہ میں قدم رنجہ فرماتے۔ ٭ سفر میں آپ ۖ اپنے ہمراہیوں کے ساتھ ہوتے اور کوئی کام سب کو کرنا ہوتا (مثلاً کھانا وغیرہ پکانا) تو آپ ۖ کام کاج میں ضرور حصہ لیتے۔ مثلاً ایک پڑائو پر سب اصحاب نے کھانا پکانے کا اِرادہ کیا اور ہر ایک نے ایک کام اپنے ذمہ لیا تو حضور اقدس ۖ نے لکڑیاں چُن کر لانے کا کام اپنے ذمہ لیا۔ ٭ سفر سے واپسی پر عادت ِ طیبہ تھی کہ سیدھے گھر میں تشریف نہیں لے جاتے بلکہ پہلے مسجد میں جاکر نمازِ دوگانہ ادا فرماتے اور پھر گھر میں تشریف لے جاتے۔ ٭ سفر سے تشریف لاتے اور شہر میں آکر بچے راستہ میں ملتے تو اُن کو آپ ۖ اپنی سواری پر بٹھاتے۔ چھوٹے بچے کو اپنے آگے بٹھاتے اور بڑے کو اپنے پیچھے۔ ٭ جب آپ ۖ سفر میں جاتے یا جہاد کے لیے، تو ہر روز اصحاب میں سے ایک صحابی اپنے ہمراہ سواری پر بٹھاتے۔ ٭ جب آنحضرت ۖ سفر کے لیے روانہ ہوتے اور سواری پر اچھی طرح بیٹھ جاتے تو تین مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہتے اور پھر یہ الفاظ دُعا کے زبان مبارک پر ہوتے : سُبْحَانَ الَّذِیْ سَخَّرَلَنَا ھٰذَا وَمَا کُنَّا لَہ مُقْرِنِیْنَ وَاِنَّا اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْئَلُکَ فِیْ سَفَرِنَا ھٰذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوٰی وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضٰی اَللّٰھُمَّ ھَوِّنْ عَلَیْنَا سَفَرَنَا ھٰذَا وَاَطْوِعَنَّا بُعْدَ الْاَرْضِ اَللّٰھُمَّ اَنْتَ الصَّاحِبُ فِی السَّفَرِ وَالْخَلِیْفَةُ فِیْ الْاَھْلِ وَالْمَالِ ۔ اور جب آنحضرت ۖ سفر سے واپس ہوتے تو یہی دُعا پڑھتے۔ مگر اس کے ساتھ یہ الفاظ اور بڑھادیتے اٰئِبُوْنَ تَائِبُوْنَ عَابِدُ وْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُ وْنَ ۔ ٭ جب کسی بلندی پر سواری چڑھتی تو تین مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہتے اور یہ فرماتے اَللّٰھُمَّ لَکَ الشَّرْفُ عَلٰی کُلِّ شَرْفٍ وَلَکَ الْحَمْدُ عَلٰی کُلِّ حَالٍ۔ ٭ جب کسی بستی میں سواری اُترتی تو تین مرتبہ فرماتے سُبْحَانَ اللّٰہِ ۔