ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2006 |
اكستان |
|
الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِیْ الْاَرْضِ وَنَجْعَلَھُمْ اَئِمَّةً وَّنَجْعَلَھُمُ الْوَارِثِیْنَO وَنُمَکِّنَ لَہُمْ فِیْ الْاَرْضِ وَنُرِیَ فِرْعَوْنَ وَہَامٰنَ وَجُنُوْدَھُمَا مِنْھُمْ مَّا کَانُوْا یَحْذَرُوْنَ O (سُورة القصص رکوع ١) '' فرعون بڑھ رہا تھا ملک میں اور وہاں کے لوگوں کو کئی فرقوں میں تقسیم کررکھا تھا، اُن کے ایک فرقہ کو کمزور کررکھا تھا۔ (اتنا ظالم تھا کہ) اُن کے لڑکوں کو ذبح کرتا تھا اور اُن کی عورتوں کو زندہ رکھتا تھا۔ بیشک وہ تھا بڑا مفسد (دہشت گرد، تخریب کار) اور (اب) ہم چاہتے ہیں کہ احسان کریں اُن لوگوں پر جو کمزور ہوئے پڑے تھے (اس کے ہاتھوں) ملک میں اور بنادیں اُن کو ہم سردار اور بنادیں اُن کو ہم قائم مقام اور (مضبوطی سے) جمادیں اُن کو ملک میں اور دِکھلادیں فرعون اور اُس کے وزیر ہامان کو اور اُن کے لشکروں کو اِن کے ہاتھوں وہی چیز کہ جس کا اُن کوخطرہ تھا''۔ اللہ تعالیٰ نے فرعونوں کے ساتھ اپنے رویہ کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا ہے : فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُکِّرُوْا بِہ فَتَحْنَا عَلَیْھِمْ اَبْوَابَ کُلِّ شَیْئٍ ط حَتّٰی اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْآ اَخَذْنٰھُمْ بَغْتَةً فَاِذَا ھُمْ مُّبْلِسُوْنَ ۔ ( سُورة الانعام آیت ٤٤ ) '' پھر جب اُنہوں نے فراموش کردیا اُس نصیحت کو جو اُن کو کی گئی تھی، کھول دیے ہم نے اُن پر دروازے ہر (قسم کی نعمت اور) چیز کے یہاں تک کہ جب وہ خوش (مست) ہوئے اُن چیزوں پر جو اُن کو دی گئیں،پکڑلیا ہم نے اُن کو اچانک پس اُس وقت وہ رہ گئے نااُمید(مایوس)''۔ ایک اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَاِذَآ اَرَدْنَآ اَنْ نُّھْلِکَ قَرْیَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِیْھَا فَفَسَقُوْا فِیْھَا فَحَقَّ عَلَیْھَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰھَا تَدْمِیْرًا o ( سُورہ بنی اسرائیل آیت ١٦) '' اور جب ہم نے چاہا کہ غارت کریں کسی بستی کو تو حکم بھیج دیا عیش کرنے والوں (بدمستوں) کو، پھر انہوں نے نافرمانی کی اُس (بستی) میں، تب ثابت ہوگئی اُن پر بات