ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2005 |
¾اكستان Ù |
|
زیرِ تبصرہ کتاب شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنی کے حالات ِزندگی پر لکھی جانے والی کتب میں سب سے ضخیم کتا ب ہے اوراس کتاب کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے مصنف سیّد فرید ا لوحیدی رشتہ میں صاحب ِسوانح حضرت مدنی کے پوتے لگتے ہیں اور''صاحبُ البیت ادرٰی بما فیہ''مشہور محاورہ ہے ۔ زیرِ تبصرہ کتاب حضرت مدنی کی شخصیت وکردار سے متعلق ایک دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے ، یہ کتاب پہلے ہندوستان میں طبع ہوئی تھی پھر لاہور میں مکتبہ محمودیہ کی طرف سے شائع کی گئی ،اب اس کا تیسرا ایڈیشن ملتان سے شائع کیا گیا ہے۔ اس ایڈیشن کے شروع میں مصنف کے حالات بھی درج کردیے گئے ہیں،اس لحاظ سے یہ ایڈیشن سابق ایڈیشنز سے ممتاز ہوگیا ہے ،کتابت وطباعت عمدہ ہے ۔ حضرت مدنی کے متوسلین کے لیے خصوصاً اورتاریخ سے وابستہ حضرات کے لیے عموماًیہ کتاب ایک قابل ِقدر کاوش ہے جس سے ضرور استفادہ کرنا چاہیے۔ نام کتاب : القاری مرتب : قاری حبیب الرحمن صفحات : ٣٣ شمارہ : جون ٢٠٠٥ء زیرِ تبصرہ رسالہ ''ماہنامہ القاری ''کا اُنیسواں شمارہ ہے، اس شمارہ میں مدیر کی جانب سے تحریر کردہ مضمون ''محفلِ قرأت'' پڑھنے کے قابل ہے ۔ اس مضمون میں موصوف نے محفل ِقراء ت کی تاریخ ، اکابر کا معمول اوراُن کی محافل قراء ت کے تذکرہ کے ساتھ ساتھ موجودہ دور میں منعقد کی جانے والی محافل قراء ت میں بہت سی کوتاہیوں کی نشاندہی کی ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ تلاوت وقراء ت ِ قرآن ایک نہایت ہی پاکیزہ اورمبارک عمل ہے جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت زیادہ اجروثواب کا وعدہ کیا گیا ہے لیکن یہ اُسی وقت ہے جبکہ پڑھنے والے کی نیت اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اوراُس کی رضا ہو،اور جس پڑھنے والے کی نیت اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اوررضاہوتی ہے اُس کے پڑھنے سے خشیت ِخداوندی جھلکتی ہے جس کا دوسروں پر اثرپڑتا ہے ۔ جلیل القدر تابعی حضرت طاؤس بن کیسان فرماتے ہیںان من احسن الناس قراء ةً الذی اذا سمعتہ یقرأ حسبتہ انہ یخشی اللّٰہ (کتاب الآثار ص ٥١)سب