ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2005 |
اكستان |
|
نیز اسی طرح کافتوٰی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا بھی ذکر فرمایا ہے ،بطورِنمونہ کے اجلہ صحابہ کے یہ چند آثار اوراُن کے فیصلے وفتاوٰی ذکر کیے گئے ورنہ صحابہ کے مابین بیک وقت تین طلاق سے تین طلاق کا واقع ہونا ایک اجماعی مسئلہ ہے جس میں کسی کااختلاف نہیں ہے ۔علامہ ابن قیم ''اغاثة اللہفان'' میں تحریر فرماتے ہیں : فقد صح بلا شک عن ابن مسعود و علی وابن عباس الالزام بثلاث ان اوقعھا جملة ۔(اغاثة اللہفان /١٧٩) یعنی حضرت ابن مسعود، حضرت علی اورحضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم اجمعین سے بلاشک وشبہہ یہ بات ثابت ہے کہ ایک ساتھ دی ہوئی تین طلاق سے سب لازم اورواقعی ہوں گی۔ نیز زادالمعاد میں تحریر فرماتے ہیں کہ ایک مجلس میں ایک ساتھ دی ہوئی تین طلاقوں کا واقع ہونا ائمہ اربعہ حضرت امام ابو حنیفہ ، حضرت امام مالک ، حضرت امام شافعی ، حضرت امام احمد بن حنبل اور جمہورتابعین اوربے شمارصحابہ کرام کامسلک ہے : '' وھذا (أی وقوع الثلاث بکلمة واحدة ) قول الائمة الاربعة وجمہورالتابعین وکثیرمن الصحابة رضی اللّٰہ عنہم اجمعین ''۔(زاد المعاد ٢/٢٥٥) ائمہ اربعہ کے علاوہ دیگر فقہاء ومحدثین کا بھی یہی مسلک ہے کہ ایک ساتھ دی ہوئی تین طلاقیں تین ہی طلاق ہوتی ہیں جن سے بیوی قطعی حرام ہو جاتی ہے۔ حضرت امام بخاری نے ایک باب خاص اسی مسئلہ کے اثبات کے لیے منعقد فرمایا ہے'' باب من اجاز طلاق الثلاث '' اس کے بعد حدیث سے اس کو ثابت فرمایا ہے نیز سنن کبری بیہقی میں ایک باب خاص اسی غرض سے منعقد کیا ہے''باب امضاء الثلاث وان کن مجموعات'' یعنی تین طلاق نافذ کرنے کا بیان اگرچہ وہ تینوں طلاق ایک ساتھ دی گئی ہوں'' پھر حدیث کے ذریعہ اِس کوثابت فرمایا ہے اور وہی حدیث ذکر فرمائی ہے جو امام بخاری نے ذکر فرمائی ہے۔(بیہقی ٧/٣٣٤) حضرت امام نووی رحمة اللہ علیہ شارح مسلم شریف تحریر فرماتے ہیں کہ : '' ائمہ اربعہ ، امام ابو حنیفہ ، امام شافعی ، امام مالک ، امام احمد بن حنبل اورجماہیر علماء سلف وخلف سب کے نزدیک حکم یہ ہے کہ ایک ساتھ ایک جملہ میں تین طلاق دینے سے تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں ''۔ (شرح مسلم شریف ١/٤٧٨) تفسیر مظہری میں نقل کیا ہے : لکنھم اجمعوا علی انہ من قال لأمرأتہ انت طالق ثلثا یقع ثلا ثاً