Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2005

اكستان

57 - 64
آپ کا ایسا کوئی ارشاد ثابت ہے، اورنہ آپ کے زمانے میں اس رات میں جاگنے کا اہتمام ثابت ہے، نہ خودحضور  ۖ  جاگے اورنہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اِ س کی تاکید فرمائی اورنہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنے طورپر اس کا اہتمام فرمایا ۔ پھر سرکارِ دوعالم  ۖ  کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد (تقریباً) سوسال تک صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم دنیا میں موجود رہے ، اِس پوری صدی میں کوئی ایک واقعہ ثابت نہیں ہے جس میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے ٢٧رجب کو خاص اہتمام کرکے منایا ہو۔لہٰذا جو چیز حضور اقدس  ۖ نے نہیں کی اورجو آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے نہیں کی، اُس کو دین کاحصہ قراردینا یااُس کوسنت قراردینا یا اُس کے ساتھ سنت جیسا معاملہ کرنا بدعت ہے۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں(معاذاللہ) حضور  ۖ سے زیادہ جانتا ہوں کہ کونسی رات زیادہ فضیلت والی ہے  یا کوئی شخص یہ کہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے زیادہ مجھے عبادت کا ذوق ہے، اگر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے یہ عمل نہیں کیا تو میں اِس کو کروں گا تو اُس کے برابر کوئی احمق نہیں۔ (اصلاحی خطبات  ج١  ص٤٨تا ٥١) 
	حقیقت یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم ، تابعین رحمہم اللہ تعالیٰ اورتبع تابعین رحمہم اللہ تعالیٰ دین کو سب سے زیادہ جاننے والے دین کو خوب سمجھنے والے اوردین پر مکمل طورپر عمل کرنے والے تھے ۔اب اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں ان سے زیادہ دین کو جانتا ہوں ، یا اُن سے زیادہ دین کو ذوق رکھتا ہوں ، یا اُن سے زیادہ عبادت گزارہوں تو حقیقت میں وہ شخص پاگل ہے، وہ دین کی فہم نہیں رکھتا ۔ لہٰذا اِس رات میں عبادت کے لیے خاص اہتمام کرنا بدعت ہے ۔ یوں تو ہر رات میں اللہ تعالیٰ جس عبادت کی توفیق دے دیں وہ بہتر ہی بہتر ہے۔ لہٰذا آج کی رات بھی جاگ لیں، کل کی رات بھی جاگ لیں، اسی طرح ستائیسویں رات کو بھی جاگ لیں ،لیکن اس رات میں اوردوسری راتوں میں کوئی فرق اورکوئی نمایاں امیتاز نہیں ہونا چاہیے ۔ (اصلاحی خطبات  ج١  ص٥١، ٥٢)

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 حسبہ بل کی چند شقیں 3 2
4 درس حدیث 8 1
5 کسی کے بارے میں دعوٰی نہیں کیا جاسکتا : 9 4
6 ''حقیر '' و '' غیر حقیر '' کا پتہ مرنے کے بعد چلے گا : 10 4
7 کچھ نا کہنا ،یہ بھی جائز نہیں ہے : 10 4
8 '' قرآن وسنت اور تواتر وتعامل '' 11 1
9 قرآن پاک کی آیت میراث : 16 8
10 (٢) قرآن کریم میں ارشاد ہے : 16 8
11 (٣) حق تعالیٰ کاارشاد ہے : 16 8
12 شخصیت وخدمات حضرت مولانا سید حامد میاں 21 1
13 ایک اہم اصول : 22 12
14 خاتمہ کا اعتبارہوتا ہے : 22 12
15 حضرت نے اپنی تعریف میں نظم رُکوادی : 23 12
16 ایک مجلس کا واقعہ : 23 12
17 حضرت کا باطنی مقام اور حضرت شیخ الاسلام کی شہادت : 24 12
18 سب سے کم عمری میں خلافت عطا ہوئی : 24 12
19 امام الاولیاء حضرت لاہوری کا حضرت کے بارے میں ارشاد 28 12
20 روضۂ رسول ۖسے جواب اور عالم کشف میں بشارت : 29 12
21 ہندوستان سے افغانستان کے لیے روانگی : 29 12
22 غیبی اشارہ اورلاہور میں نزول : 30 12
23 مثالی درس گاہ ..... افراد کی تیاری ..... پُر امن انقلاب : 30 12
24 رائیونڈ روڈ پر درسگاہ اورخانقاہ : 30 12
25 حضرت کا توکل علی اللہ : 31 12
26 حضرت کا اتباع سنت اورتواضع : 32 12
27 بخاری شریف اور انوارات : 33 12
28 مرید ین کی اصلاح وتربیت : 33 12
29 ہر شب شب ِقدر ہے : 34 12
30 اجلاس جمعیت .. ...... گناہ کے کام پر استغفار : 34 12
31 ہدیہ میں احتیاط : 35 12
32 حقوق میں کوتاہی پر مرید کی سرزنش : 35 12
33 واشنگ ویئر اورکے ٹی کا کپڑا ناپسند فرماتے تھے : 36 12
34 طلباء اور سیاست : 36 12
35 ایک مدرس کو تنبیہ : 37 12
36 3سیاسی موقف میں پختگی اورقرآن سے دلیل : 37 12
37 ماہِ رجب کے فضائل واحکام 40 1
38 ماہِ رجب عظمت وفضیلت والا مہینہ : 40 37
39 رجب کی پہلی رات کی فضیلت : 42 37
40 ماہِ رجب میں روزے : 44 37
41 رجب کے روزوں سے متعلق ایک اہم علمی تحقیق : 47 37
42 ٢٢ رجب کے کونڈے : 49 37
43 کونڈوں کی رسم کی شرعی حیثیت : 49 37
44 ٢٧ رجب کے منکرات اوررسمیں : 53 37
45 ٢٧رجب اورشب ِمعراج : 54 37
46 طلاق ایک ناخوشگوار ضرورت اوراُس کا شرعی طریقہ 58 1
47 صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فیصلے وفتاوٰی : 58 46
48 گلدستہ احادیث 62 1
Flag Counter