ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2005 |
اكستان |
|
کوششوں سے ٤نوجوانوں کو بچالیا گیا اورایک شہید کو اُس وقت نکال لیا گیا ۔باقی سات شہداء کو نکالنے کی بہت کوشش کی گئی مگر کامیابی نہ ہوسکی ۔ ٤ماہ بعد شہداء کو نکالنے کاکام دوبارہ شروع کیا گیا بالآخر ٢١جولائی ٢٠٠٢ء کو کیپٹن جواد اسلم چیمہ کا جسدِ خاکی نظرآیا اوراُنہیں پورے فوجی اعزاز کے ساتھ لاہور لایا گیا۔ میں نے اُن کی والدہ سے پوچھا کہ آپ نے تو یہ چار ماہ بہت اذیت میں گزارے ہوں گے ۔ فوری جواب آیا مجھے میرے اللہ نے بہت حوصلہ اورہمت دے دی تھی۔ میں خود حیران ہوں کہ میرا اتنا پیارا بیٹا جسے مجھ سے اورمجھے اُس سے غیر معمولی تعلق تھااُس کے لیے اللہ نے مجھے اتنا صبر اورحوصلہ بخش دیا۔ سبحان اللہ !موت شاندار،تو صبر وحوصلہ اُس کے شایان ِشان۔ جواد کی والدہ نے بتلایا کہ کارگل کے محاذ پر شہید ہونے والا ایک کیپٹن جس کا نام بھی اتفاق سے جواد ہی تھا وہ جواد چیمہ کا سکول وکلاس فیلو رہا۔ اس کی شہادت پرا س کے جنازے میں اپنی والدہ سے کہتے رہے ۔امی دیکھا آپ نے کس شان سے جارہا ہے، دعا کریں مجھے بھی شہاد ت کی موت آئے۔ آخری مرتبہ جا نے سے پہلے (جواد چیمہ کی منگنی ہو چکی تھی )اپنی منگیتر کے والدین سے کہامیں کسی کی زندگی برباد کرنا نہیں چاہتا اگر واپس آگیاتب............. اورآخر ی خط جو لکھا وہ اُردو میں لکھا جس میںخاص طورپر یہ باتیں ہی لکھیں کہ میں یہ خط اُردو میں اس لیے لکھ رہاہوں کہ امی بھی آسانی سے پڑھ سکیں ۔امی! میں جب سے یہاں آیا ہوں بہت بے قرار ہوں، میں نماز پڑھتا ہوں اور دعا کرتا ہوں ۔میں یہ دُعا نہیں کرتا کہ میں واپس آجائوں ، بس مجھے ایسالگتا ہے جیسے اللہ نے مجھ سے کوئی کام لینا ہے ۔میں دعا کرتا ہوں اللہ مجھے سرخرو کرے۔ یہ آخری خط اُن کی میت کے ساتھ ہی دفن کیا گیا۔اناللّٰہ وانا الیہ راجعون۔ حضرت فضالہ بن عبید نبی علیہ الصلٰوة والسلام سے ایک حدیث نقل کرتے ہیں جس کا مفہوم ہے کہ ''ہر میت کی موت کے وقت اُس کے عمل کا سلسلہ بھی ختم کردیا جاتا ہے سوائے اُس شخص کے جو اللہ کے راستہ میں پہرہ دیتے ہوئے ماراجائے کیونکہ اس کے اس عمل کا اجر اُس کے لیے تاقیامت جاری رکھا جاتا ہے۔ (مشکٰوة شریف ج ٢ ص٣٣٢ ) کیپٹن جواد شہید کی والدہ آخرمیں ہمیں جواد کے کمرے میں لے گئیں جواُن کے والد نے اسی طرح