ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2005 |
¾اكستان Ù |
|
فرمانبردار ہیں وَالرَّاسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ ےَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِہ کُلّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَا ےَذَّکَّرُ اِلَّا اُولُوالْاَلْبَابِ اور ویسے تو ہرآدمی جو علم سے انتساب رکھتا ہے اپنے کو راسخ فی العلم کہہ سکتا ہے سمجھ سکتا ہے لیکن اِس کا ایک معیار ہے ،ہر آدمی راسخ فی العلم نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اس معیار پر پورا نہ اُتر جائے۔ حضراتِ مفسرین رحمہم اللہ نے لکھا ہے کہ راسخ فی العلم کی معیار چار چیزیں ہیں جو آدمی چار باتوں میں متفق ہو جائے گا معیار پر اور کسوٹی پر وہ راسخ فی العلم کے زُمرہ میں شامل ہو جائے گا۔ اور ہمارے یہ جو دینی مدارس حضراتِ اکابر رحہم اللہ نے قائم کیے ہیں اُن کا مقصدصرف علم سیکھنا سکھانا نہیں ہے بلکہ راسخ فی العلم علماء پیدا کرنا ہے لہٰذا یہاں کے ہر طالب علم کو اس کے لیے یہ ضروری اور لازم ہے کہ وہ اُن چار صفات کو جو راسخ فی العلم کی بیان کی گئی ہیں اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرے اوریہ گارنٹی اور ضمانت ہو کہ جو شخص اِن چار معیاروں پر پورا اُترآئے گا، اللہ تبارک وتعالیٰ اُس کے لیے دنیا اور آخرت میں قبولیت اور کامیابی کے تمام راستوں کو کھول دیں گے ،یہ چار باتیں کیا ہیں ؟ صرف اختصار کے ساتھ یاد رکھنے کی ضرورت ہے ۔ فرمایا کہ سب سے پہلی چیز اس کے اندر اَلتَّقْوٰی فِیْمَا بَیْنَہ وَبَیْنَ اللّٰہْ اُس شخص کا جو علم سے انتساب رکھتا ہے پہلا کام یہ ہونا چاہیے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے ساتھ اُس کا معاملہ تقوٰی اورپرہیز گاری کا ہو ۔علم اورگناہ ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے ،گناہ ایک زہر ہے اورعلم ایک غذا ہے، جس طرح تھوڑا سا بھی زہر اگر غذا میں مل جائے تو غذا ساری کی ساری زہر اوربیکار ہو جاتی ہے نقصان دہ ہو جاتی ہے، اسی طرح علم کے ساتھ اگر گناہ رہے کسی بھی درجہ میں تو یہ علم کو ضائع کردیتا ہے ، علم کی روشنی کو ختم کردیتا ہے۔ اس لیے طالب ِعلم کو اس زمانہ طالب ِعلمی میں بالخصوص اپنے آپ کو ہر طرح کے گناہ سے بچا کر کے رکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم اس وقت اس معاملہ میںمشق اور ٹریننگ کرلیں گے اوراپنے کو عادی بنالیں گے تو انشاء اللہ مرتے دم تک اس کے اثرات باقی رہیں گے یہ تو اللہ کے ساتھ معاملہ ہے۔ دوسری چیز ہے لوگوں کے ساتھ کیسا معاملہ ہو؟ فرمایا اَلتَّوَاضَعُ فِیْمَا بَیْنَہ وَبَیْنَ النَّاسِ لوگوں کے ساتھ تواضع اور فرمانبرداری ،حسن اخلاق ، اپنے کو کمتر سمجھنا دل سے کمتر سمجھنا، ایثار اوردوسرے کے لیے قربانی کا جذبہ اور دوسرے کے لیے خیر خواہی کا جذبہ ، یہ سب چیزیں تواضع میں آتی ہیں ۔ فرمایا جناب رسول اللہ ۖ نے مَنْ تَوَاضَعَ لِلّٰہِ رَفَعَہُ اللّٰہُ جو اللہ کے لیے اپنے کو دل سے کمتر سمجھے اللہ تعالیٰ اُسے سربلندی عطا فرماتے ہیں ۔