ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2004 |
اكستان |
|
تو آپ نے اس طرح بیان جواز کے لیے کیاہے۔ شبہ ۔ دُعا کے وقت آسمان کی طرف ہاتھ اُٹھانے میں کیا حکمت ہے جبکہ اللہ تعالیٰ جہت سے منزہ ہیں۔ جواب ١ : یہ امر تعبدی ہے یعنی سرکاری حکم کی تعمیل ہے جس طرح نماز کے اندر قبلہ رخ ہونا اور سجدہ کی حالت میں ناک اور پیشانی کا زمین پر رکھنا امر تعبدی ہے اور آسمان دعا کے لیے بمنزلہ قبلہ ہے۔ جواب ٢ : نیز جہت سماوی کو کئی وجوہ سے فضیلت حاصل ہے آسمان ہی مہبطِ رزق رحمت وبرکت یعنی مہبط نزول باراں ہے اور اسی سے وحی نازل ہوتی رہی اور وہی ملاء الاعلیٰ کا مسکن ہے اور وہاں ہی بندوں کے اعمال اُٹھائے جاتے ہیں اور اسی میں جنت ہے جو مومن کی انتہائی مراد ہے اور دعا کے لیے بمنزلہ قبلہ کے ہے۔ (تعلیق الصبیح ملخصاً ص٥٢ج٣ ) ٤۔ کیا دعا سیدھے ہاتھوں سے کرنی چاہیے یااُلٹے ہاتھ بھی کرنی جائز ہے۔ دعا مانگتے وقت جب ہاتھوں کو اُٹھائو تو ہتھیلیوں کا رُخ آسمان کی طرف کرو جیسا کہ دعا کے وقت کا معمول ہے۔ ہاتھوں کو اُلٹ کر دعا نہ مانگوچنانچہ حدیث شریف میں وارد ہے : ''سلوا اللّٰہ ببطون اکفکم ولا تسئلوہ بظھورھا فاذا فرغتم فامسحوا بھا وجوھکم ۔ واما ما و رد فی صحیح المسلم انہ علیہ السلام جعل ظہورھما الی السمائِ فلعلہ من خصوصیة دعائِ الا ستسقائِ لما فیہ من الایمائِ الٰی انقلاب الاحوال کما ذکرفی تقلیب الردائِ فالاول لحصول مطلوب من النعمائِ والثانی لدفع ماوقع بہ من البلائِ ''۔( شرح اربعین للقاری ص٨٦ و ٨٧ ) ''جس وقت تم اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو تو اس سے اپنے سیدھے ہاتھوں کے ذریعے مانگو اور جب تم فارغ ہو جائو تو اپنے ہاتھوں کو اپنے منہ پر پھیر لو اوروہ حدیث جو مسلم شریف میں واردہے کہ آنحضرت ۖ نے جب دعا مانگی تو ہاتھوں کی پشت آسمان کی طرف کرلی ، تو ہو سکتا ہے کہ یہ طلب بارش کی دعا کی خصوصیات سے ہے کیونکہ یہ بھی ایک اچھا شگون اور فال لینے کے درجہ میں ہے اور اس میں تبدیلی حالات کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ چادر پلٹ کر اچھا شگون لیا جاتا ہے پس اگر کسی نعمت کی طلب کیلیے دعا کی جائے تو ہتھیلیوں کو ا سمان کی طرف کرناچاہییے اور اگر کسی بلاء (قحط وغیرہ) کے دور کرنے کیلیے دُعاء مانگی جائے تو ہاتھوں کی پشت آسما ن کی طرف کرنا چاہیے''۔