ماہنامہ انوار مدینہ لاہورمئی 2002 |
¾اكستان Ù |
|
سکھوں کو اس بات کا علم ہوگیاتو انہوں نے اسے اور اس کے بھائی مرزا غلام محی الدین کو قتل کرنے کی کوشش کی ،مگر یہ اپنے چھوٹے بھائی مرزا غلام حیدر کی مداخلت کے باعث بچ گئے۔
١٨٥٧ء کی جنگ آزادی میں خدمات سر انجام دینے والے وفادار گھرانوں کی دستاویز تیا ر کرتے ہوئے ''روسائے پنجاب ''نامی کتاب میں سرلیپل گریفن غلام مرتضیٰ کی خدمات کے بارے میں مندرجہ ذیل خیالات پیش کرتاہے :
دربار نو نہال سنگھ اور شیر سنگھ کے وقت مرزا غلام مرتضیٰ کو سر گرم خدمت پررکھا گیا۔١٨٤١ء میں وہ جنرل ونٹوراکے ساتھ منڈی اور کولو بھیجا گیااور ١٨٤٣ء میں ایک پیادہ رجمنٹ کے ساتھ پشاوربھیجا گیا ۔اس نے ہزارہ میں بغاوت کے وقت اپنے آپ کو ممتاز کیا اور جب ١٨٤٨ء کی بغاوت پھوٹ پڑی تو وہ حکومت کا وفادار رہا اور اس کی طر ف سے لڑتا رہا ۔اس کے بھائی غلام محی الدین نے بھی اس وقت بیش قیمت خدمات سرانجام دیں ۔دیوان ملراج کی امداد کے لیے جب بھائی دیوان سنگھ اپنے فوجی دستوںکے ساتھ ملتان جا رہا تھا تو مرزا غلام محی الدین نے دوسرے جاگیر داروں لنگر خان ساہیوال اور صاحب خان ٹوانہ کی مدد سے مسلمان آبادی کو ساتھ ملالیا اور صاحب دیال کی فوج کے ساتھ باغیوں پر حملہ کیا اور انہیں مکمل شکست دیتے ہوئے چناب میں دھکیل دیاجہاں چھ سوسے زائد افراد ڈوب کر ہلاک ہوگئے ۔ ١
مارچ ١٨٤٩ء میں جب انگریزوں نے پنجاب پر قبضہ کیا تواس گھرانے کی تمام جاگیر یں تو بحال نہ کی گئیں مگر سا ت سو روپے کی پنشن ،قادیان اور قریبی دیہاتوں کے مالکانہ حقوق مرزا غلام مرتضیٰ اوراس کے بھائی کو دیے گئے۔ ٢
انگریزوں کے پنجاب کے الحاق کے دو ماہ بعد جون ١٨٤٩ء میں مرزا غلام مرتضیٰ نے پنجاب کے مالیاتی کمشنر جے ۔ایم۔ ولسن کو خط لکھا جس میں پنجاب کے الحاق کے موقع پر ا س کے خاندان کی طرف سے کی گئی خدمات کے عوض مدد کی استدعا کی گئی تھی ۔١١جون ١٨٤٩ء کو ولسن نے جواب دیا۔
میں نے تمہاری درخواست کا بغور جائزہ لیا ہے جس نے مجھے تمہاری اور تمہارے خاندان کی ماضی
صفحہ نمبر 18 کی عبارت
کی خدمات اور حقوق یاد دلادیئے ہیں ۔ مجھے بخوبی علم ہے کہ برطانوی حکومت کے قیام سے لے کر تم اور تمہاراخاندان یقینًا مخلص،وفادار اور ثابت قدم رعایا رہے ہو اور تمہارے حقوق وا قعی قابل
١Mirza Ghulam Ahmad Qadiani,Kitab-ul-Baryah,Qadian p.143
See Abdul Rahim Dard Qadiani,Life of Ahmad, Lahore 1948, p.13