ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2017 |
¾اكستان Ù |
|
فضیلت کا اعتقاد رکھتے ہوئے خاص قسم کے اعمال کرتے ہیں، ذیل میں اُن اعمال کو ذکر کر کے اُن کا مختصر تجزیہ پیش کیا جاتا ہے۔رجبی کا بیان : حضرت مولانا مفتی سیّد عبد الکریم گمتھلوی خلیفہ مجاز حضرت تھانوی رحمہما اللہ تحریر فرماتے ہیں : ''رجب کی ستائیسویں رات کو معراج شریف کا تذکرہ کیا جاتا ہے اور دھوم دھام سے جلسے ہوتے ہیں جن میں فضول خرچی اور بے جا زینت اور ضرورت سے کہیں بڑھ کر روشنی وغیرہ وہوتی ہے، شریعت میں اِس ہئیت ِ متعارفہ کی کوئی اصل نہیں بلکہ فضول خرچی وغیرہ کی صاف طور پر ممانعت اور سخت مذمت وارد ہوئی ہے اور اگر کوئی مجمع اِن خرافات سے پورا پر ہیز رکھ کر کیا جاوے تب بھی کم از کم دن کی تعین کا تو گناہ ہے ہی کیونکہ اِس تذکرہ کے واسطے شریعت نے کوئی دن معین نہیں فرمایا ۔'' دوسرے قاعدہ ہے کہ اگر کسی غیر ضروری فعل سے دوسرے لوگوں کے عقائد بگڑنے کا اندیشہ ہو تو اُس فعل کوبالکل ترک کردیا جائے گا، اس واسطے ترکِ منکرات کے باوجود بھی ایسی مجلسوں کی اجازت نہیں ہو سکتی جیسا کہ ہم ربیع الاوّل کے بیان میں مفصل لکھ چکے ہیں ۔اور بعض لوگ جو کہہ دیا کرتے ہیں کہ فضیلت کے ایام کا دھیان نہیں رہتا اور نہ فضیلت ذہن نشین ہوتی ہے جب تک کہ موقع پر اِس کی تفصیل نہ کی جاوے اِس واسطے جن دنوں میں کوئی فضیلت ہو اُن کا بیان خاص خاص موقعوں پر مفصل سنانے کی ضرورت ہے تاکہ بے خبر لوگوں کو پتہ لگ جائے اور جو پیشتر سے واقف ہیں اُن کو یاد دہانی ہو جاوے۔ سو اِس کا ایک جواب تو وہی ہے جو ابھی مذکور ہوا یعنی اگر اِس یادہانی سے کسی خرابی کا اندیشہ نہ ہوتا اور کوئی امرِ منکر بھی شامل نہ ہوتا تو اِس میں فی نفسہ مضائقہ نہ تھا لیکن جب خرابی ٔ عقائد کی نوبت آگئی تو منع کرنا لازم ہے۔