ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2017 |
اكستان |
|
تکلیف اور ناگواری کے باوجود کامل وضو : (٥) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَةَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ۖ قَالَ اَلاَ اَدُلُّکُمْ عَلٰی مَا یَمْحُو اللّٰہُ بِہِ الْخَطَایَا وَیَرْفَعُ بِہِ الدَّرَجٰتِ قَالُوْا بَلٰی یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ اِسْبَاغُ الْوُضُوْئِ عَلٰی الْمَکَارِہِ وَکَثْرَةُ الْخُطَا اِلَی الْمَسَاجِدِ وَ اِنْتِظَارُ الصَّلٰوةِ بَعْدَ الصَّلٰوةِ فَذٰلِکُمُ الرِّبَاطُ ۔ ١ ''حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا کیا میں تم کو وہ اعمال بتاؤں جن کی برکت سے اللہ گناہوں کو مٹاتا ہے اور درجے بلند فرماتا ہے ؟ حاضرین صحابہ نے عرض کیا حضرت ضرور بتلائیں آپ نے ارشاد فرمایا : (١) تکلیف اور ناگواری کے باوجود پوری طرح کامل وضوکرنا (٢) اور مسجدوں کی طرف قدم زیادہ پڑنا (٣) اور ایک نماز کے بعد دوسری نمازکا منتظر رہنا پس یہی ہے حقیقی رباط یہی ہے اصلی رباط۔ ''تشریح : اس حدیث میں رسول اللہ ۖ نے تین عملوں کی ترغیب دی ہے اور فرمایا ہے کہ اِن اعمال سے گناہ معاف ہوتے ہیں اور درجوں میں ترقی ہوتی ہے : (١) ایک یہ کہ وضو کرنے میں اگرکسی وجہ سے تکلیف اور مشقت ہو تو اس کے باوجود وضو پورا پورا کیا جائے اور اِس میں خلافِ سنت اختصار سے کام نہ لیا جائے مثلاً سردی کا موسم ہے اور پانی ٹھنڈا ہے یاپانی کم ہے جو پورا وضو سنت کے مطابق کرنے اور ہر عضو کو تین تین دفعہ دھونے کے لیے کافی نہیں ہو سکتا بلکہ ایسا کرنے کے لیے پانی کچھ دُور چل کر لانا پڑتا ہے تو ایسی صورت میں تکلیف اور مشقت اُٹھا کر سنت کے مطابق کامل وضو کرنا ایسا محبوب عمل ہے جس کی برکت سے بندے کو گناہوں سے پاک صاف کر دیا جاتا ہے اور اُس کے درجے بلند کردیے جاتے ہیں۔ (١) دوسرا عمل آپ نے بتایا ''مسجد کی طرف قدموں کا زیادہ پڑنا'' یعنی مسجد سے زیادہ تعلق ١ مسلم شریف کتاب الطھارة رقم الحدیث ٢٥١