Deobandi Books

اصلی پیر کی پہچان

ہم نوٹ :

7 - 50
پیش لفظ
شیخ العرب و العجم  عارف باللہ مجدد زمانہ حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے مواعظ حسنہ کےسلسلہ نمبر۱۱۰ کا یہ وعظ ’’اصلی پیر کی پہچان‘‘ جو آپ کے ہاتھوں میں ہے حضرت والا کے دردِ دل کا اظہار ہے۔ حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے دل کی تڑپ عمر بھر یہی رہی کہ امتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فردبھی ضایع نہ ہو۔ اس فکر میں حضرت والارحمۃ اللہ علیہ کا رات دن تڑپتے رہنا دنیا نے دیکھا ہے۔ وقت کےاس ولیِ کامل نے حقیقتاً اپنے پاس آنے والے امت کے ایک ایک فرد پر جس دردِ دل کے ساتھ محنت فرمائی تھی  ساری دنیا نے اس کے یہ ثمرات دیکھے کہ ہزاروں لاکھوں لوگ اس نظرِ کیمیا اثر کے فیض سے حیاتِ نو پاتے چلے گئے، کمزور ایمان والوں کا ایمان مضبوط و پختہ ہوااور قوی ایمان والوں             کی نسبت مع اللہ اقویٰ ہوگئی۔
حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ نے جن امور پر نہایت اہتمام کے ساتھ اپنی توجہ مرکوز رکھی ان میں ایک اہم امر سچے اللہ والے سے تعلق قائم کرنا تھا۔ خود حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ نے اس بات پر انتہائی اہمیت کے ساتھ عمل فرمایا اور تین مختلف اللہ والوں حضرت مولانا شاہ محمد احمد صاحب پرتاب گڑھی، حضرت مولانا شاہ عبد الغنی صاحب پھولپوری اور حضرت مولانا شاہ ابرار الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہم سے اصلاحی تعلق قائم کیا۔ حضرت مولانا شاہ محمد احمد صاحب پرتاب گڑھی اور حضرت مولانا شاہ عبد الغنی صاحب پھولپوری رحمۃ اللہ علیہما جیسے اکابر سےتو بیک وقت رُشد و اصلاح کا تعلق قائم تھا گو بیعت اور اصلاحی تعلق حضرت شاہ عبدالغنی صاحب پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ سے ہی تھا لیکن حضرت شاہ محمد احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو بھی شیخ ہی کا درجہ دیتے تھے۔
اسی لیے حضرت والارحمۃ اللہ علیہ ہمیشہ یہ فرماتے رہے کہ مجھے اللہ نے جو کچھ دیا ہے ان ہی بزرگوں کے صدقہ میں دیا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ نے امت کی ہدایت کے لیے اللہ والوں یعنی سچے پیر کی نشانیاں واضح انداز میں بارہا بیان فرمائیں۔ اس تناظر میں حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ شعر پڑھا کرتے تھے   ؎
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 پیش لفظ 7 1
3 اہل اﷲ کے قصے سنانے کا مقصد کیا ہونا چاہیے؟ 10 1
4 حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی تین محبوب چیزیں 10 1
5 حیّ علی الصلٰوۃ کا عجیب عاشقانہ ترجمہ 11 1
6 گناہ گاروں اور اﷲ والوں کی پریشانی میں کیا فرق ہوتا ہے؟ 12 1
7 حضرت بہلول رحمۃ اللہ علیہ کا بصیرت افروز واقعہ 12 1
8 عام لوگ اﷲ والوں کا مقام نہیں پہچان سکتے 13 1
9 حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے تین محبوب اعمال 15 1
10 شیخ کو ہدیہ دینے کے آداب 15 1
11 ولایت کے لیے اللہ تعالیٰ کا جذب کرنا لازمی ہے 17 1
12 اولیاء اللہ کے جذب کا پہلا قصہ 18 1
13 تارکِ دنیا اور متروکِ دنیا میں فرق 19 1
14 کشف بندہ کے اختیار میں نہیں ہوتا 20 1
15 مردوں کے لیے سونا چاندی کی انگوٹھی کے استعمال کا مسئلہ 21 1
16 مجاہدات کے بغیر مولیٰ کو حاصل کرنا محال ہے 21 1
17 حضرت ابراہیم ابن ادہم رحمۃ اللہ علیہ کی دس سال بعد بیٹے سے ملاقات 22 1
18 سلطان ابراہیم ابن ادہم رحمۃ اللہ علیہ کی ایک دعا اور ا للہ تعالیٰ کا جواب 23 1
19 قرآن پاک کی ایک آیت کی عجیب تفسیر 24 1
20 جذب کا دوسرا قصہ 25 1
21 صحبتِ اہل ا للہ کی اہمیت پر نصیحت آموز مثالیں 25 1
22 اصلی پیر کی پہچان 28 1
23 جذب کا تیسرا قصہ 28 1
24 اﷲتعالیٰ کی محبت میں جنت کا مزہ ملتا ہے 29 1
25 لیلیٰ اور مجنوں کی آپس میں کیا رشتہ داری تھی؟ 30 1
26 مزے دار زندگی اﷲتعالیٰ کی فرماں برداری ہی سے ملتی ہے 30 1
27 گِدُّو بندر کے نام کی عجیب تشریح 31 1
28 بے مثل مولیٰ کے بے مثل نام کی بے مثل لذت 31 1
29 حالتِ گناہ میں بھی اﷲ تعالیٰ کےکرم سے جذب عطا ہوسکتا ہے 32 1
30 حضرت بِشرحافی رحمۃ اللہ علیہ کے جذب کا قصہ 32 1
31 جگر صاحب کی حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضری 33 1
32 جگر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے حق میں حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی چار دعائیں 35 1
33 حضرت ابراہیم ابن ادہم رحمۃ اللہ علیہ کی برکت سے ایک شرابی کے جذب کا قصہ 35 1
34 حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی دعا کے آثارِ قبولیت 36 1
35 توبہ کرنے والا اللہ تعالیٰ کا محبوب ہوجاتا ہے 37 1
36 گناہوں کے نشانات کو مٹا دینے کی حکمت 38 1
37 داڑھی نہ رکھنے والے قیامت کے دن اﷲ کے نبی کو کیا جواب دیں گے؟ 38 1
38 داڑھی رکھنے کا انعام 39 1
39 جگر صا حب رحمۃ اللہ علیہ کی عبد الرب نشتر سے ملاقات کا دلچسپ واقعہ 41 1
Flag Counter