اصلی پیر کی پہچان |
ہم نوٹ : |
|
پیش لفظ شیخ العرب و العجم عارف باللہ مجدد زمانہ حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے مواعظ حسنہ کےسلسلہ نمبر۱۱۰ کا یہ وعظ ’’اصلی پیر کی پہچان‘‘ جو آپ کے ہاتھوں میں ہے حضرت والا کے دردِ دل کا اظہار ہے۔ حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے دل کی تڑپ عمر بھر یہی رہی کہ امتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فردبھی ضایع نہ ہو۔ اس فکر میں حضرت والارحمۃ اللہ علیہ کا رات دن تڑپتے رہنا دنیا نے دیکھا ہے۔ وقت کےاس ولیِ کامل نے حقیقتاً اپنے پاس آنے والے امت کے ایک ایک فرد پر جس دردِ دل کے ساتھ محنت فرمائی تھی ساری دنیا نے اس کے یہ ثمرات دیکھے کہ ہزاروں لاکھوں لوگ اس نظرِ کیمیا اثر کے فیض سے حیاتِ نو پاتے چلے گئے، کمزور ایمان والوں کا ایمان مضبوط و پختہ ہوااور قوی ایمان والوں کی نسبت مع اللہ اقویٰ ہوگئی۔ حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ نے جن امور پر نہایت اہتمام کے ساتھ اپنی توجہ مرکوز رکھی ان میں ایک اہم امر سچے اللہ والے سے تعلق قائم کرنا تھا۔ خود حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ نے اس بات پر انتہائی اہمیت کے ساتھ عمل فرمایا اور تین مختلف اللہ والوں حضرت مولانا شاہ محمد احمد صاحب پرتاب گڑھی، حضرت مولانا شاہ عبد الغنی صاحب پھولپوری اور حضرت مولانا شاہ ابرار الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہم سے اصلاحی تعلق قائم کیا۔ حضرت مولانا شاہ محمد احمد صاحب پرتاب گڑھی اور حضرت مولانا شاہ عبد الغنی صاحب پھولپوری رحمۃ اللہ علیہما جیسے اکابر سےتو بیک وقت رُشد و اصلاح کا تعلق قائم تھا گو بیعت اور اصلاحی تعلق حضرت شاہ عبدالغنی صاحب پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ سے ہی تھا لیکن حضرت شاہ محمد احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو بھی شیخ ہی کا درجہ دیتے تھے۔ اسی لیے حضرت والارحمۃ اللہ علیہ ہمیشہ یہ فرماتے رہے کہ مجھے اللہ نے جو کچھ دیا ہے ان ہی بزرگوں کے صدقہ میں دیا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ نے امت کی ہدایت کے لیے اللہ والوں یعنی سچے پیر کی نشانیاں واضح انداز میں بارہا بیان فرمائیں۔ اس تناظر میں حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ شعر پڑھا کرتے تھے ؎