ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2017 |
اكستان |
|
حق ِخداوندی سے سبکدوش کردیا اور تمہارے مرض بخل کا طبیب بن گیا کیونکہ تمہیں معلوم ہو چکا ہے کہ زکوة و خیرات سے مقصود بخل کا دُور کرنا ہے پس مالِ زکو ةگویا بخل کا دھوون ہوا یہی وجہ ہے کہ جناب رسولِ مقبول ۖ زکوة و صدقہ کا مال اپنے خرچ میں نہ لاتے اور فرمایا کرتے تھے کہ یہ مال کامیل ہے تو جس مسلمان نے تمہارے مال کا میل لے کر تمہیں اور تمہارے مال کو پاک و صاف بنادیا تو بھلا بتائو کہ اُس کا تم پر احسان ہوا یا تمہارا اُس پر احسان ہوا ؟ بھلا اگر کوئی جراح مفت فصد کھول کر (نشتر لگاکر) تمہارا وہ ناقص خون نکال دے جو تمہاری دُنیوی زندگی کے لیے مضرہے تو کیا تم اُس کو اپنا محسن نہیں سمجھتے ؟ اسی طرح جو شخص قلب سے بخل کے فاسد مادّہ کو کہ جس کے ضرر کا حیاتِ اُخروی میں اندیشہ ہے بِلامعاوضہ لیے ہوئے مفت نکال دے تو اُس کو بدرجہ اَولیٰ اپنا محسن و خیر خواہ سمجھنا چاہیے۔ (٣) تیسری بات یہ ہے کہ عمدہ سے عمدہ اور پاکیزہ مال خیرات کرو کیونکہ جو چیز ناپسندیدہ ہو اُس کا اللہ کے نام پر دینا کیسے مناسب ہو سکتا ہے ؟ تم سن ہی چکے ہو کہ اِس سے مقصود ودعوی محبت ِخداوندی کا امتحان ہے پس جیسی بری یا بھلی چیز اللہ پاک کے نام پر خیرات کرو گے اُس سے خود معلوم ہو جائے گا کہ تمہیں اللہ کے ساتھ کس قدر محبت ہے۔ (٤) چوتھی بات یہ ہے کہ تمہیں جو کچھ دینا ہو ہشاش بشاش(خوش خوش)اور خندہ رو(ہنس مکھ) ہو کر دیا کرو کیونکہ جناب ِرسول اللہ ۖ نے فرمایا ہے کہ ''ایک درہم لاکھ درہم سے بڑھ جاتا ہے'' اِس کا مطلب یہی ہے کہ جو ایک درہم نیک نیتی اور خوشی کے ساتھ دیا گیا ہے وہ اُن لاکھ درہموں سے بڑھا ہوا ہے جو ناگواری ١ کے ساتھ دیے گئے ہوں۔ ------------------------------ ١ لیکن اِس کا مطلب یہ نہ سمجھو کہ جب تک ناگواری دل سے نہ نکلے خیرات نہ دی جائے کیونکہ ابتدا میں ناگواری ضرور ہوتی ہے، ایسے وقت میں ناگواری پر عمل نہ کرنا اور اللہ کی راہ میں اپنی طبیعت پر زور ڈال کر دے دینا یہ بھی اعلیٰ درجے کا مجاہدہ اور ہمت کا کام ہے اور مجاہدہ ہونے کی وجہ سے اُمید ہے کہ خود اِس میں ثواب بڑھ جائے گا۔