کیا۔ اطاعت کی یہی دوصورتیں ہیں: اسلام یا جزیہ، یہ خود قانون اسلامی ہے، صحابہ کی ایجاد نہیں، قرآن وحدیث کے ماہر پر یہ امر مخفی نہیں، اور یہ امر گو ہمارے دعوے میں مضر نہیں، مگر بالکل خلافِ واقع ہے کہ زبردستی مسلمان کیا، صحابہ اول تبلیغ کرتے تھے، اور رفعِ شبہات ومناظرے کی اجازت دیتے تھے، اور وضوحِ حق کے بعد ترکِ مخالفت میں زبردستی بھی جو عقلاً جائز ہے، چناں چہ بعد ثبوتِ حکومت گورنمنٹ کے باغی کو سزا دینا بالکل درست وموافقِ عقل کے ہے، اور ترکِ مخالفت کی وہی دو صورتیں ہیں جو اوپر مذکور ہوئیں۔
امرِ چہارم: موجبِ شبہ بہت لوگوں کو آپ کے پیغمبر ہونے کی خبر نہیں ہوئی فقط۔ میں کہتا ہوں: عمومِ بعثت کے لیے یہ ضرور نہیں کہ سب کو خبر ہو جاوے، بلکہ رحمتِ خداوندی سے اس میں یہ وسعت ہے کہ جس جس کو خبر ہوتی جاوے قبول کرتے جاویں، اور جس کو خبر نہ ہو وہ معذور ہے۔
امرِ پنجم: موجبِ شبہ ہندوستان وامریکہ وافریقہ کی ہدایت کیا ہوئی فقط۔ اس کا جواب امرِ شبہ چہارم میں گزر چکا، میرا ارادہ اس میں زیادہ لکھنے کا تھا، مگر چوں کہ عمومِ بعثت کے دلائل بہت قطعی وصاف ہیں، اور شبہات مذکورہ نہایت ضعیف۔ اس لیے اختصار کیا گیا، اگر خدانخواستہ! یہ کافی نہ ہوں تو اس سے زیادہ لکھنے کو تیار ہوں۔
خط نصیحت آمیز جس کا ذکر خطبے میں ہے
بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم
بخدمت عالی مرتبت مجمعِ اخلاق والطاف سلمہم اللہ تعالیٰ۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
ہر چند کہ مجھ کو آپ سے صوری نیاز حاصل نہیں، مگر آپ کے اخلاق واوصاف سن کر غائبانہ تعلق ہے، جس نے اس عرض کی جرأت دلائی، میری گم نامی وناشناسائی پر نظر نہ فرمائیں، بلکہ انظرو إلی ما قال، ولا تنظروا إلی من قال کو پیشِ نظر رکھیے۔ اب بنامِ خدا شروع کرتا ہوں۔
مکرماً! جہاں تک آپ کے مساعی وتصانیف کو غور کرکے دیکھا، یوں معلوم ہوا کہ آپ کو دو چیزیں مقصود ہیں۔ خیر خواہی اسلام، وخیر خواہی مسلمانان، خیر خواہی اسلام نے اس پر مجبور کیا کہ جو اعتراضات مذہبِ اسلام پر مخالفین کے ہیں ان کے جواب دیے جائیں، اور خیر خواہی مسلمانان اس امر کا باعث ہوئی کہ مسلمان جو حضیض (پستی) تنزل میں گرے ہیں ان کو ترقی پر پہنچایا جاوے، ان دونوں مقصودوں کے مستحسن ہونے میں کسی منصف کو کلام نہیں ہوسکتا۔ مگر صرف غور طلب یہ امر ہے کہ اس کے ذرائع اور وسائل کیا چیز ہیں؟ اس کی تعیین باعثِ اختلافِ خیالات وجمہورِ اہلِ اسلام ہے۔