سلطنت نہیں، اور جو مضرِ سلطنت سمجھا جاتا ہے وہ شرعاً ضروری نہیں۔ سو یہ دعویٰ کیسے ثابت ہو کہ فتویٰ شریعت پر عمل کرنے سے سلطنت نہیں کرسکتے۔
دوسرے شبہے کا جواب: اس کے بعد یہ لکھا ہے کہ اس وقت ملک علم سے قائم ہے۔ شمشیر سے نہیں، اور اس کو باروت گولے کی ایجاد سے ثابت کیا ہے۔ عزیز من! اول تو جیسا باروت گولے کا علم ہے، شمشیر زنی کا بھی علم ہے، اور اگر شمشیر زنی کو علم نہیں کہا جاتا تو گولہ بازی کو علم کہنے کی کوئی وجہ نہیں، غرض یا تو پہلے زمانے میں بھی ملک کو علم سے قائم کہا جاوے گا، یا اس زمانے میں بھی علم کا دخل نہ مانا جاوے گا، پھر اگر یہ بھی مان لیا جاوے کہ وہ علم نہ تھا، یہ علم ہے۔ تو اس سے کیا مطلب حاصل ہوا؟ ان علوم کو کسی مفتی ہندی نے خلافِ شریعت بتلایا ہے، جس کی وجہ سے تنزل کا الزام فتویٰ علمائے ہند پر لگایا جاوے۔
تیسرے شبہے کا جواب: رہا یہ افسوس کہ مسلمانوں نے اللہ کی نعمتوں کی قدر نہ کی، اور بے قدری کی یہ دلیل کہ پانی سے وہ کام نہ لیا جس کے وہ شایاں تھا، بس پیاس میں پی لیا، وضو کیا، غسل کیا، طہارت کی، مخاطب عزیز کی خوش فہمی کے اعتبار سے نہایت تعجب خیز تقریر ہے، اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ وضو وغسل وغیرہ سے بڑھ کر وہ کام ہے جو اس سے اب لیا جارہا ہے۔ بس اس کے متعلق اتنا دریافت کرنا ہے کہ واقع میں یہ جدید صفتیں بہ نسبت وضو وغسل وطہارت کے زیادہ اہتمام کے لائق ہیں تو حق جل وعلا شانہ نے حضراتِ انبیا ؑ کے ذریعے سے ایسے کم درجے کے فوائد تو کس اہتمام سے تعلیم فرمائے، اور ان صنائع سے ہزاروں سال تک اپنے بندوں کو اطلاع نہ دی، اس کی کیا وجہ ہے؟
دوسرے یہ کہ قیامت میں بقولِ مخاطب عزیز کے اُن لوگوں سے جب سوال بے ترکیبی کا غالباً ہوگا جنھوں نے صرف طہارت وغسل وغیرہ میں پانی کا استعمال کیا تو ضرور ان لوگوں کے بڑے درجے ہوں گے جنھوں نے جدید صنائع میں کام کیا، گو ایک وقت بھی نماز نہ پڑھی ہو، گو عمر بھر جنابت وخباثت میں گزری ہو، کیوں کہ عملِ اعلیٰ کے روبر عملِ ادنی کالعدم ہے تو اس بنا پر رات دن کی عبادت کرنے والے کندۂ دوزخ ہوں گے، اور فساق وفجار بلکہ کفار بھی نعوذ باللہ مقیمِ جنت ہوں گے، کیا سچ مچ کسی حساب وکتاب کے اعتقاد رکھنے والے کا دل اس کو قبول کرتا ہے؟
چھوتے شبہے کا جواب: رہا یہ سوال کہ مسلمانوں نے اس طرف کیوں توجہ نہ کی، اس کو اصل مقصود سے کہ دعویٰ وجوبِ