Deobandi Books

اصلاح الخیال - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع

24 - 40
پندرہویں شبہے کا جواب: اس کے بعد کوٹ پتلون کی حکایت مذکور ہے، اور ٹوپی کی تبدیل کو قومی لباس بن جانے کے لیے کافی کہا گیا ہے۔ جس سے سخت حیرت ہے، اگر کوئی شخص زنانہ پائجامہ، زنانہ کرتہ، زنانہ دوپٹہ پہنے، مگر سر پر امتیاز کے لیے ٹوپی بھی اوڑھ لے، کیا کوئی عاقل
اس شخص کے لباس کو صرف ٹوپی کی وجہ سے مردانہ لباس کہہ سکتا ہے، بلکہ اگر تمام تر لباس مردانہ ہو، مگر ایک کپڑا صرف زنانہ ہو، جب بھی لوگ اس کو ہنسیں گے، حالاں کہ غالب حصہ مردانہ لباس ہے، پھر اس کے عکس میں تو کیا ہونا چاہیے۔
اور یہ جو پیشین گوئی کی ہے کہ دس برس کے بعد منکرین کو بھی پہننا پڑے گا، سو اول تو بلا دلیل یہ پیشین گوئی مقبول نہیں، پھر اگر خدانخواستہ ایسا ہی ہوا تو اس وقت یوں کہو کہ یہ لباس بہت عام ہوگا، اور جو خصوصیت غیر اقوام کے ساتھ لباس کو ہے، جس خصوصیت کی وجہ سے تشبہ کا حکم کیا جاتا ہے، یہ خصوصیت جاتی رہے گی، جب خصوصیت گئی تو تشبہ بھی گیا، پھر اگر مانع بھی پہننے لگے تو حرج کیا ہوگا، لیکن جب تک خصوصیت باقی ہے، اور تشبہ حاصل ہے، حکمِ شرعی کس طرح اس پر متوجہ نہ ہوگا؟
اس کے بعد سواری میں اس لباس کی ضرورت لکھی ہے، سو میں اگر گھوڑے کی سواری جانتا تب تو اس کا عملی جواب دیتا، مگر افسوس کہ اب اس سے قاصر ہوں، لیکن اب بھی کئی شافی جواب رکھتا ہوں۔
اول: آں عزیز مدت سے گھوڑے پر خوب سوار ہوتے ہیں۔
دوم: بہت لوگ اسپ سوار دیکھے جو پچاس پچاس میل کا دورہ کرتے تھے، مگر یہ لباس ان کے پاس نہیں دیکھا، وہ کیوں کر سوار ہوتے ہیں؟
سوم: اگر یہ ہندوستانی کپڑا سواری میں جلد پھٹ جاتا ہے تو خدا کا فضل ہے، ایک پائجامہ کی جگہ چار پائجامے بنالیے جاویں۔
چہارم: اگر کسی کپڑے کا پائجامہ بنایا جاوے تو یہ بھی ممکن ہے کہ بشکلِ پائجامہ ہندوستانی کے بنایا جاوے، ٹخنے بھی کھلے رہیں، پتلون بنانے کی کیا حاجت ہے؟
پنجم: اگر مان بھی لیا جاوے کہ بدون اس کے سواری میں تکلیف ہوتی ہے تو غایت سے غایت صرف ایک چیز کی ضرورت ثابت ہوئی بشرطے کہ ٹخنا ضرور کھلا ہو، وہ بھی ایک خاص وقت میں، اس کے علاوہ جو بہت سی چیزیں خلافِ شرع کمرے میں موجود ہیں، چناں چہ تصویر وباجہ وغیرہ اس کی کون ضرورت ہے؟ اسی طرح غیر وقت سواری میں اس لباس کی کیا حاجت ہے؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ گشت سے فارغ ہو کر اس کو نکال دیا جاوے ؟اور پہننے کے وقت میں بھی اس کی کراہت 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 تقریرِ شبہات 1 1
3 تقریر شبہ اول 1 2
4 دوسرے شبہے کی تقریر 3 2
5 تیسرے شبہے کی تقریر 3 2
6 چھوتے شبہے کی تقریر 3 2
7 پانچویں شبہے کی تقریر 4 2
8 چھٹے شبہے کی تقریر 4 2
9 ساتویں شبہے کی تقریر 4 2
10 آٹھویں شبہے کی تقریر 4 2
11 دسویں شبہے کی تقریر 5 2
12 گیارہویں شبہے کی تقریر 6 2
13 بارہویں شبہے کی تقریر 6 2
14 تیرہویں شبہے کی تقریر 6 2
15 چودہویں شبہے کی تقریر 7 2
16 پندرہویں شبہے کی تقریر 7 2
17 سولہویں شبہے کی تقریر 8 2
18 سترہویں شبہے کی تقریر 9 2
19 تقریرِ جوابات 9 1
20 پہلے شبہے کا جواب 10 19
21 دوسرے شبہے کا جواب 13 19
22 تیسرے شبہے کا جواب 13 19
23 پانچویں شبہے کا جواب 14 19
24 چھٹے شبہے کا جواب 14 19
25 ساتویں شبہے کا جواب 14 19
26 آٹھویں شبہے کا جواب 16 19
27 نویں شبہے کا جواب 17 19
28 دسویں شبہے کا جواب 18 19
29 گیارہویں شبہے کا جواب 19 19
30 بارہویں شبہے کا جواب 19 19
31 تیرہویں شبہے کا جواب 20 19
32 چودہویں شبہے کا جواب 23 19
33 پندرہویں شبہے کا جواب 24 19
34 سولہویں شبہے کا جواب 25 19
35 سترہویں شبہے کا جواب 26 19
36 خط نصیحت آمیز جس کا ذکر خطبے میں ہے 28 1
37 تتمۂ اصلاح الخیال 35 36
38 خطِ عزیز 35 1
39 اٹھارہویں شبہے کی تقریر 35 38
40 انیسویں شبہے کی تقریر 35 38
41 بیسویں شبہے کی تقریر 36 38
42 اکیسویں شبہے کی تقریر 36 38
43 بائیسویں شبہے کی تقریر 36 38
44 تیئیسویں شبہے کی تقریر 37 38
45 چوبیسویں شبہے کی تقریر 37 38
46 جوابِ ناصح 37 1
47 اٹھارہویں شبہے کا جواب 37 46
48 انیسویں شبہے کا جواب 37 46
49 بیسویں شبہے کا جواب 38 46
50 اکیسویں شبہے کا جواب 39 46
51 بائیسویں شبہے کا جواب 39 46
52 تیئیسویں شبہے کا جواب 39 46
53 چوبیسویں شبہے کا جواب 39 46
54 تحریراتِ مذکورہ کا نافع ومؤثر ہونا 40 1
55 عرضِ مولف (زاد مجدہ) 40 1
Flag Counter