فیضان محبت |
نیا میں |
|
حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مردوں کے لیے خوشخبری اور آپ لوگ کہیں گے کہ ہمارا کیا حال ہوگا؟ جنتی مرد جب جنت میں داخل ہوں گے تو تیس اور تینتیس سال کی عمر ہوگی اَلْمُرَادُ بِذٰلِکَ کَمَالُ الشَّبَابِ جوانی کمال پر ہوگی اور ہمیشہ رہے گی، آنکھوں میں قدرتی کاجل لگا ہوگا اور ڈاڑھی بھی نہیں ہوگی۔15؎ وہاں ڈاڑھی کبھی نکلے گی ہی نہیں، وہاں بلیڈ کی ضرورت نہیں ہوگی، نہ وہاں بلیڈ کی کوئی مارکیٹ ہوگی، ہمیشہ ایسے رہیں گے جیسے اٹھارہ انیس سال کا سرخ و سفید نوجوان ہوتا ہے لہٰذا یہاں ڈاڑھی منڈاکر ایڈوانس جنتی بننے کی کوشش نہ کریں کیونکہ جنت انہیں کو ملے گی جو سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم مان کر ڈاڑھی رکھیں گے۔ چاروں اماموں کے نزدیک ایک مشت ڈاڑھی رکھنا واجب ہے، جتنی واجب عید کی نماز ہے، بقر عید کی نماز ہے، وتر کی نماز ہے، اتنی ہی واجب ایک مشت ڈاڑھی رکھنا ہے اور چہرہ کے تینوں طرف ایک مٹھی ڈاڑھی ہو اور مٹھی بھی اپنی ہو، نائی کی نہیں ورنہ کہیں آپ نائی کا دس سالہ بچہ لے آئیں اور اس کی مٹھی سے ناپ کر ڈاڑھی کٹوادیں اور اس طرح کمسن بننے کا ذوق پورا کریں لہٰذا اپنی مٹھی سے ناپ کر ڈاڑھی ایک مٹھی رکھنا واجب ہے اور یہاں جو ڈاڑھی رکھ رہے ہیں قیامت کے دن ڈاڑھی رکھے ہوئے اُٹھائے جائیں گے۔ جنت میں ڈاڑھی نہیں ہوگی لیکن میدانِ قیامت میں اسی حال میں اُٹھائے جائیں گے جس حال میں موت آئی ہے۔ خواجہ صاحب فرماتے ہیں کہ قیامت میں اپنی ڈاڑھی اللہ میاں کو دکھاکر یہ شعر پڑھوں گا ؎ ترے محبوب کی یا رب شباہت لے کے آیا ہوں حقیقت اس کو تو کردے میں صورت لے کے آیا ہوں نافرمانوں کے لیے مقامِ عبرت و تازیانۂ محبت اور جو ڈاڑھی منڈا رہے ہیں وہ ڈاڑھی منڈے اُٹھائے جائیں گے اور جب رسول اللہ _____________________________________________ 15 ؎جامع الترمذی:81/2، باب ماجاء فی سن اہل الجنۃ، ایج ایم سعید