ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2016 |
اكستان |
|
آپ کے پاس اتنے اسکول اور یونیورسٹیاں نہیں ہیں جتنی جہالت کی یونیورسٹیاں ١ ان (علمائ) کے پاس ہیں (تالیاں) اور بیس پچیس لاکھ طالب علم جن کو وہ طالب علم کہتے ہیں ................ آپ کو تو یہ شکایت ہے کھوڑو صاحب کہ سندھی سے سندھ کی زبان چھین لی گئی، پختون سے پختون کی زبان چھین لی گئی، پنجابی سے پنجاب کاورثہ چھین لیا گیابلوچستان سے اُس کی تہذیب وثقافت چھین لی گئی لیکن مجھے یہ بتائیے یہ جو یونیورسٹیاں ہیں جن کو سب چندہ بھی دیتے ہیں عید، بقر عید پر فطرانے اور چندے اور کھالیں......... خود پالتی ہے ہماری سوسائٹی۔ یہ جو جہالت کی یونیورسٹیاں ہیں، پنجابی سندھی پٹھان اور مہاجر بھائی ............ اِن مسئلوں کا توحل نکل سکتاہے اِن مسئلوں کا حل دُنیا نے تلاش کیے ہوئے ہیں ................. ہم نے اسے پاکستانی بنانا ہے وہ پاکستانی تو نہ بنا پائیں گے، جب دو مختلف چیزیں پڑھائیں اور یہ حاوی ہوا آپ کی کتاب پر جہالت کا علم ٢ .................... میری کتاب پر...... حاوی ہوا جہالت کا علم اور اس کو تقویت کس نے دی .......'' ٣ اِن وفاقی وزیر کا یہ بے ربط اور توہین آمیز بیان ایسا ہے جیسے کسی مسلمان نہیں بلکہ قادیانی یا ہندو نے جاری کیا ہو، اِس پر ہم اپنی طرف سے مزید کسی تبصرے سے قبل آپ کے سامنے اُن کی ایک دوسری تقریر پیش کرتے ہیں جو اُنہوں نے گزشتہ ماہ ٢١ اگست ٢٠١٦ء کو کنونشن سنٹر اسلام آباد میں ''عظمت ِ حرمین شریفین'' کانفرنس کے موقع پر کی۔ ''وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سنیٹر پرویز رشید نے کہاہے کہ وہ دن کبھی نہیں آسکتا کوئی مسلمانوں کے مقدس مقامات کو میلی آنکھ سے بھی دیکھ سکے، اسلام کے نام پر دہشت گردی کرنے والا ہم میں سے نہیں، دہشت گردی کو مسلمانوں سے ١ یعنی قرآن ،حدیث اور فقہ پڑھانے والے مدارس ٢ مراد علم دین ہے ۔والعیاذ باللہ ! ٣ تقریبًا پانچ منٹ کا ویڈیو بیان جو اِنٹرنیٹ پر مختلف جگہوں پر موجود ہے اور قومی جرائد میں بھی شائع ہوا ہے۔