ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2016 |
اكستان |
|
روزہ رکھنے کے برابر فضیلت رکھتا ہے۔ علامہ نووی حدیث ِمسلسل کے تحت فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صراحت کرتی ہے کہ نفلی روزے رکھنے کے لیے افضل ترین مہینہ محرم ہے ،اِس میں عاشورا اور اِس کے علاوہ محرم کے دُوسرے ایام کے روزے بھی داخل ہیں یہ فضیلت ماہِ محرم کے تمام روزوں کو شامل ہے لہٰذا اگر اللہ تعالیٰ توفیق دیں تو اِس پورے مہینے کے روزے رکھیں یا اِس کی ہر پیر او رجمعرات کو روزہ رکھیں ورنہ نو، دس او رگیارہ کا، اور کم اَز کم نودس یا دس گیارہ کو،مگر یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر حضور ۖ زیادہ تر شعبان میں روزے کیوں رکھتے تھے ؟ اِس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ محرم کی افضلیت کا علم آپ کواَخیری عرصہ حیات میں دیا گیا۔ اور دوسرا جواب یہ ہے کہ اَسفار و اَعذار کی وجہ سے آپ کو محرم میں بکثرت روزہ رکھنے کا موقع نہ مل سکا تھا، واللہ اعلم ۔ (مظاہر حق جدید ج ٢ ص ٧٥٥)بہر حال اِن روایات سے محرم الحرام کی حرمت، عظمت اور فضیلت واضح ہوتی ہے ۔ ہجرت کا مہینہ : پھر یہ مہینہ عظیم الشان تاریخی واقعات کا حامل بھی ہے ،اِس میں اہم اہم اُمور اور مہتم بالشان واقعات رُونما ہوئے ،منجملہ اُن میں سے رحمت ِعالم ۖ کی ہجرت ِمدینہ طیبہ کا واقعہ بھی اِسی محترم مہینہ کی یادگار ہے جس کا بنیادی مقصد اللہ جل جلالہ کے پیغام و احکام کی حفاظت و دعوت تھااور جو باطل پر حق کی کامیابی کا سب سے بڑا پیش خیمہ تھا جس کے بعد اسلام اور اہلِ اسلام کو صحیح طور پر عقیدہ و عمل کی پوری پوری آزادی ملی ،روایات میں آتا ہے کہ نبوت کے تیر ہویں سال محرم الحرام میں رحمت عالم ۖ نے بحکمِ الٰہی ہجرتِ مدینہ کی نیت فرمائی پھر کچھ دنوں بعد یعنی ٢٦ صفر کو روانہ ہوگئے ،اِسی وجہ سے سیّدنا فاروق اعظم نے اپنے دورِ خلافت کے چوتھے یا پانچویں سال ١٧ہجری میں حضر اتِ صحابہ کے اجماع سے یہ فیصلہ فرمایا کہ حضور ۖ چونکہ اسلامی سال کے پہلے مہینہ ہی میں ہجرت کی نیت کر چکے تھے لہٰذ