ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2014 |
اكستان |
|
لاہور تک جاؤ گے، مسجد میں پہلے ہی دن سے کسی حافظ کا بندو بست کردیتے۔ حافظ صاحب نے عرض کیا کہ لاہور کا اِرادہ تو حیدر آباد پہنچ کر ہوا، یہ حضرت جی سے تعلق کی بات تھی۔ جامعہ مدنیہ کے لیے کراچی میں کھالوں کے نظم کے بہت عظیم کارکن رہے ،شروع میںیہ خود کھالیں جمع کرتے تھے یعنی کارکن تھے، خود بتایا کرتے تھے کہ مولانا نور الحسن (مرحوم) کے یہاں ایک گائے اور ایک اُونٹ کی قربانی ہوئی اُنہوں نے کہا کہ ایک کھال میں دارُالعلوم نانک واڑہ (حضرت مفتی محمد شفیع صاحب) کو دُوں گا اور ایک تمہارے مدرسہ (جامعہ مدنیہ) کو۔ اَب تمہاری مرضی کہ اُونٹ کی کھال لو گے یا گائے کی،اِن کے ساتھ جناب حافظ محمد کاملین صاحب پراچہ زیدمجدہ بھی تھے دونوں نے کہا کہ اُونٹ کی دے دیں اور دِل میں سوچا کہ یہ کھال بڑی ہوتی ہے مہنگی بکے گی، مدرسہ کو فائدہ ہوگا۔ دو ڈھائی میل سے سائیکل پر لادھ کر بڑی مشکل سے وہ کھال مرکز پر لائے، شام کو جب وہ کھال فروخت کرنے گئے تو پانچ روپے کی بکی جبکہ گائے کی کھال اُس وقت چھ سات روپے کی تھی۔ کہتے تھے کہ ہمیں بڑا اَفسوس ہوا کہ اِتنی محنت بھی کی، پریشانی اُٹھائی اور وہ کھال اِتنی قیمت میں گئی۔ بعد میں جب دُوسرے طلباء مدرسہ تعلیم القرآن شریفیہ کے کارکن بنے تو حافظ صاحب صبح فجر پڑھ کر مرکز آجاتے تھے اور عشاء کے بعد تک وہیں رہتے تھے ،کارکنان کی دِل جوئی کے لیے اُن کابہت خیال رکھتے تھے۔ موصوف تنظیم القراء والحفاظ ٹرسٹ کے بانیان میں سے تھے، یہ تنظیم حضرت قاری صاحب کے حفاظ تلامذہ کی ہے جو ١٩٧٥ء میں قائم ہوئی۔ حافظ صاحب موصوف اِس کے مختلف عہدوں پر رہے اور خدمات اَنجام دیں۔ (١) نائب ناظم : دسمبر ١٩٧٥ء سے ١٩٧٨ء (تین سال) (٢) خزانچی : ١٩٧٨ء سے ١٩٨٠ء (دو سال) (٣) نائب صدر : یکم ستمبر ١٩٩٠ء سے ١٤ اگست ١٩٩١ء (گیارہ ماہ چار دِن) (٤) مجلسِ عاملہ کے رُکن