ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2014 |
اكستان |
|
بوڑھے ہوگئے ہو میں چاہتی ہوں کہ آپ سے جلدی الگ ہوجاؤں۔ اَبو مسلم نے فرمایا کہ زہر کا اَثر اِس لیے نہیں ہوتا تھا کہ میں جب بھی کوئی کھانا کھاتا یاپانی پیتا ہوں تو بسم اللہ پڑھ لیتا ہوں اور پھر اُس باندی کو آزاد کردیا جہاں چاہے نکاح کرلے۔ (قلیوبی ص ٥٣) (٣) ایک قاضی کی مغفرت کا واقعہ : ایک قاضی کا اِنتقال ہو گیا، اُس کی بیوی حاملہ تھی اُسے لڑکا پیدا ہوا جب بچہ ہو شیار ہوا تو اُس کی ماں اُسے مدرسہ میں پڑھنے کے لیے لے گئی۔ اُستاذ نے اِسے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھائی۔ بچہ کے بسم اللہ پڑھتے ہی اللہ تعالیٰ نے اُس کے باپ سے عذاب اُٹھا لیا اور فرمایا کہ اے جبرئیل! ہماری رحمت کے لائق نہیں کہ اِس کا بچہ ہمیں بسم اللہ الرحمن الرحیم کہہ کر یاد کرے اور ہم اِس کے باپ کو عذاب میں رکھیں۔ سچ ہے کہ بسم اللہ میں بہت ہی برکت ہے۔ (حکایات ِقلیوبی ص ٣٨) (٤) ایک یہودی لڑکی کا عجیب واقعہ : لمعاتِ صوفیہ میں لکھا ہے کہ ایک بزرگ کسی جگہ وعظ کہہ رہے تھے اُس میںاُنہوں نے بسم اللہ الرحمن الرحیم کی فضیلت بھی بیان کی۔ اِس وعظ کو ایک یہودی لڑکی سن رہی تھی اُس پر اِس بیان کا ایسا اَثر ہو کہ وہ دِل و جان سے مسلمان ہوگئی اور ہر کام بسم اللہ پڑھ کر کرتی تھی۔ لڑکی کے باپ کو جب اِس کی خبر ہوئی تو اِس پر بہت سخت ناراض ہوا اُسے دھمکی دی تاکہ اِسلام سے پھر جائے ،وہ لڑکی اپنے اِسلام پر جمی رہی۔ لڑکی کا باپ بادشاہ کا وزیر تھا اُسے خیال ہوا کہ اگر لڑکی کے مسلمان ہونے کی خبر لوگوں کو ہوئی تو بڑی شرمندگی ہوگی اِس لیے باپ نے طے کر لیا کہ لڑکی کو سخت بدنام کر کے کسی بہانے اُسے ہلاک کردے گا۔ باپ نے اپنی بیٹی کو مہرلگانے کی شاہی انگوٹھی دے کر کہا کہ اِسے حفاظت سے رکھنا، لڑکی نے اپنی عادت کے مطابق بسم اللہ پڑھ کر اَنگوٹھی لی اور اپنی جیب میں رکھ لی ۔ رات کو جب لڑکی سوگئی تو اُس کے باپ نے جیب میں سے وہ اَنگوٹھی نکال لی اور غصہ میں آکر اِسے ندی میں پھینک آیا تاکہ صبح جب اُس سے اَنگوٹھی مانگے اوروہ نہ دے سکے تواُسے موت کی سزادی جاسکے۔ اللہ کی شان صبح کو ایک مچھیرا (مچھلیوں کا شکار کر کے بیچنے والا) ایک مچھلی لے کر وزیر کے پاس