ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2013 |
اكستان |
|
قسط : ٢٧ پردہ کے اَحکام ( اَز افادات : حکیم الامت حضرت مولانا اَشرف علی صاحب تھانوی ) بد نگاہی و بد فعلی کا بیان اَمرد یعنی بے ریش خوبصورت لڑکے سے اِحتیاط : اَمرد یعنی بے دَاڑھی والا لڑکا (خوبصورت جس کی طرف میلانِ قلب و کشش ہو) بعض اَحکام میں اَجنبی عورت کی طرح ہے یعنی شہوت کے اَندیشہ کے وقت اُس کی طرف دیکھنا، اُس سے معانقہ یا مصافحہ کرنا ،اُس کے پاس تنہائی میں بیٹھنا ،اُس کاگانا سننا یا اُس کے موجود ہوتے ہوئے گانا سننا یا اُس سے بدن دَبوانا اِس سے بہت پیار و اِخلاص کی باتیں کرنا یہ سب حرام ہے۔( اِصلاح الرسوم ص ١٠٣) اَمردوں سے قرآن یا نعت سننا : اِسی طرح اَجنبی عورت یا اَمرد مشتہی سے گانا سننا یہ بھی ایک قسم کی بدکاری ہے حتی کہ اَگر کسی لڑکے کی آواز سننے میں نفس کی شرکت ہو تو اُس سے قرآن سننا بھی جائز نہیں۔ اَکثر لوگ لڑکوں کو نعت وغزلیں یاد کرادیتے ہیں یہ بھی جائز نہیں ہے۔ فقہاء نے یہاں تک لکھا ہے کہ اَگر بے ریش لڑکا مرغوبِ طبع ہو تو اُس کی اِمامت بھی مکروہ ہے تو جب اِمام بنا کر کھڑا کرنا جائز نہیں حالانکہ اللہ کا قرآن ہی پڑھے گا مگر فقہاء نے بلا ضرورت اِس کی بھی اِجازت نہیں دی۔ اَکثر واعظین عورتوں کے مجمع میں خوش الحانی سے اَشعار پڑھتے ہیں یہ بالکل ہی مصلحت ِ دین کے خلاف ہے۔ حضور ۖ نے ایک مرتبہ سفر میں ایک غلام کو عورتوں کے سامنے اَشعار پڑھنے سے روک دیا اَور فرمایا تھا کہ رُوَیْدَکَ یَا اَنْجَشَةُ لاَ تُکْسِرِ الْقَوَارِیْرَ تو جب اُس زمانے میں کہ سب پر