زوال الملک ولا بد فیہ من المعاینۃ فکذا فیما یبتنی علیہ۔۱۱؎ وأما الوقف فالصحیح أنہ تقبل الشہادۃ بالتسامع في أصلہ دون شرائطہ لأن أصلہ ہو الذي یشتہر۔ (۵۰۸)قال ومن کان في یدہ شیء سوی العبد والأمۃ وسعک أن تشہد أنہ لہ۱؎ لأن الید أقصی ما یستدل بہ علی الملک إذ ہي مرجع الدلالۃ في الأسباب کلہا فیکتفي بہا۔۲؎ وعن أبي یوسف رحمہ اللہ أنہ یشترط مع
کی جائے گی ، اس لئے اصل وقف مشہور ہوتا ہے ۔
تشریح : صاحب ہدایہ فرماتے ہیں کہ وقف کی جو شرطیں ہیں کہ اتنی آمدنی فلاں جگہ خرچ کریں اور اتنی آمدنی فلاں جگہ خرچ کریں ، یہ تفصیلات مشہور نہیں ہوتیں اس لئے اس کی گواہی سن کر دینا جائز نہیں ہے ، لیکن اصل وقف ، یعنی زمین کو وقف کیا ہے یہ مشہور ہوتی ہے اس لئے اس کی گواہی سن کر دے سکتا ہے ۔
ترجمہ :( ٥٠٨) کسی کے قبضے میں کوئی چیز ہو تو غلام اور باندی کے علاوہ کے بارے میں آپ کے لئے گنجائز ہے کہ گواہی دے کہ یہ چیز اسی کی ملکیت ہے ۔
ترجمہ : ١ اس لئے قبضہ آخری چیز ہے جس سے ملک ہونے پر استدلال کیا جا سکتا ہے ، اس لئے کہ اسباب کے درجے دلالت کا مرجع قبضہ ہی ہے اس لئے قبضے ہی پر اکتفاء کیا جائے گا ۔
تشریح : مثلا زید کا قبضہ کسی گائے پر ہے تو آپ اس کی گواہی دے سکتے ہیں کہ اس گائے کا مالک زید ہے۔
وجہ : کیونکہ بازار میں خرید و فروخت کرتے ہیں تو یہی دیکھتے ہیں کہ یہ چیز اس کے قبضے میں ہے تو سمجھتے ہیں کہ یہ اس کی ملکیت ہے ، یا وراثت تقسیم کریں تو پہلے یہی دیکھا جاتا ہے کہ یہ چیز میت کے قبضے میں تھی ، تو آخیر میں قبضہ ہی ایسا ہے جس سے اس کی ملکیت پر استدلال کیا جا سکتا ہے ، اس لئے کسی چیز پر کسی آدمی کا قبضہ ہو تو آپ کے لئے گنجائش ہے کہ یہ گواہی دے دیں کہ یہ چیز اس کی ہے
لغت : الید : ہاتھ ، یہاں مراد ہے قبضہ ۔یستدل بہ : اس سے استدلال کیا جا سکتا ہے ۔
ترجمہ : ٢ حضرت امام ابو یوسف سے ایک روایت یہ ہے کہ اس کے ساتھ یہ بھی شرط ہے کہ گواہ کے دل میں یہ یقین ہوجائے کہ یہ چیز اس کی ہے تب گواہی دے ۔
تشریح : صرف قبضہ ہونا کافی نہیں بلکہ قرائن وغیرہ سے یہ بھی دل میں یقین بیٹھ جائے کہ یہ چیز اس کی ہے تب گواہ کے لئے گنجائش ہے کہ ملکیت کی گواہی دے ۔
وجہ: (١)آیت میں اس کا اشارہ ہے کہ جانتا ہو اور یقین ہوجائے تب وہ گواہ ہے ۔ ولا یملک الذین یدعون من