ہذا۔۵؎ وکذاولو رأی إنسانا جلس مجلس القضاء یدخل علیہ الخصوم حل لہ أن یشہد علی کونہ قاضیا ۶؎ وکذا إذا رأی رجلا وامرأۃ یسکنان بیتا وینبسط کل واحد منہما إلی الآخر انبساط الأزواج کما إذا رأی عینا في ید غیرہ۔۷؎ ومن شہد أنہ شہد دفن فلان أو صلی علی جنازتہ فہو معاینۃ حتی لو فسر للقاضي قبلہ۸؎ ثم قصر الاستثناء في الکتاب علی ہذہ الأشیاء
ترجمہ : ٦ ایسے ہی ایک مرد اور عورت کو دیکھتے ہیں کہ دونوں ایک گھر میں رہ رہے ہیں اور ہر ایک دوسرے کے ساتھ میاں بیوی کی طرح بے تکلف ہیں ] تو دیکھنے والے کے لئے جائز ہے کہ بیوی شوہر ہونے کی گواہی دے [جیسے کسی عینی چیز کو کسی کے قبضے دیکھا تو گواہی دے سکتا ہے کہ یہ چیز اس کی ملکیت ہے ۔
تشریح : مثلا گائے زید کے ہاتھ میں اس طرح رکھتے ہوئے دیکھا کہ یہ اس کی ملکیت ہے تو اس کے لئے جائز ہے کہ گواہی دے کہ یہ گائے زید کی ہے ، اسی طرح مرد اور عورت کو میاں بیوی کی طرح رہتے ہوئے دیکھے تو گواہی دے سکتا ہے یہ میاں بیوی ہیں ۔
وجہ : اس حدیث میں ہے ۔عن القاسم بن محمد عن عائشة زوج النبی ۖ انھا اخبرتہ ۔( باب ھل یرجع اذا رأی منکرا فی الدعوة ؟ ،ص ٩٢٥، نمبر ٥١٨١) اس حدیث میں راوی نے حضرت عائشہ کو حضور ۖ کی بیوی کہا ہے ، حالانکہ راوی حضرت عائشہ کی شادی میں شریک نہیں تھے صرف سن کر کہا ، جس سے معلوم ہوا کہ نکاح کی گواہی سن کر بھی دے سکتا ہے ۔
لغت : انبساط : بسط سے مشتق ہے ، کھل کر بات کرنا ۔ عینا : یہاں عین کا ترجمہ ہے کوئی چیز ، مثلا گائے ، بیل وغیرہ ۔
ترجمہ : ٧کسی نے گواہی دی کہ وہ فلاں کے دفن میں حاضر ہوا ہے ، یا اس کی جنازے کی نماز پڑھی ہے تو یہ دیکھنے کی طرح ہے یہی وجہ ہے کہ قاضی کے سامنے اس کی تفسیر کی تب بھی قاضی اس گواہی کو قبول کرے گا ۔
تشریح: دفن میں حاضر ہونا یا جنازے میں حاضر ہونا گویا کہ مرتے وقت کو دیکھنا ہے اس لئے قاضی کے سامنے اس کی وضاحت کی تب بھی اس کی گواہی قبول کی جائے گی ۔
ترجمہ:٨ پھر متن میں استثناء کو پانچ ہی پر منحصر کرنا ولاء اور وقف میں سن کر گواہی دینے کو نفی کرتا ہے ۔
لغت : ولاء : غلام کو آزاد کردے تو اس کے مرنے کے بعد جو اس کی وراثت ہوگی وہ آزاد کرنے والے آقا کو ملے گی اس کو ٫ولائ، کہتے ہیں ۔ اس کی دو حیثیتیں ہیں ]١[ ایک تو یہ کہ ولاء کی گواہی دینا گویا کہ آقا کی ملکیت کے زائل ہونے کی گواہی دینا ہے اس اعتبار سے یہ معاملات ہے اس لئے سن کر گواہی دینا کافی نہیں ہے ]٢[ اور دوسری حیثیت یہ ہے کہ یہ نسب کی طرح ہے ، اور نسب میں سن کر گواہی دینا جائز ہے اس اعتبار سے اس میں سن کر گواہی دینا جائز ہونی چاہئے ۔ اسی لئے اس بارے میں اختلاف