یشاہد غیر الواحد إذ الإنسان یہابہ ویکرہہ فیکون في اشتراط العدد بعض الحرج ولا کذلک النسب والنکاح ۴؎ وینبغي أن یطلق أداء الشہادۃ ولا یفسر أما إذا فسر للقاضي أنہ یشہد بالتسامع لم تقبل شہادتہ کما أن معاینۃ الید في الأملاک مطلق للشہادۃ ثم إذا فسر لا تقبل کذا
موت کی حالت دیکھ سکتا ہے ، اس لئے کہ انسان اس کو دیکھنے سے ڈرتا ہے اور کراہیت کرتا ہے اس لئے کئی آدمی کی شرط لگانے میں بعض حرج ہے ، لیکن نسب اور نکاح میں یہ بات نہیں ہے ۔
تشریح: موت کے وقت میں ایک ہی دو آدمی ہوتے ہیں ، کیونکہ موت کی حالت کو دیکھتے ہوئے ڈر لگتا ہے اس لئے ایک مرد خبر دے دے ، یا ایک عورت موت کی خبر دے تب بھی اس کی گواہی دینا جائز ہے ، اس کے برخلاف ولادت اور نکاح کے وقت بہت سے لوگ ہوتے ہیں اس لئے اس کے بارے میں دو آدمی کی خبر ضروری ہے ۔
ترجمہ : ٤مناسب یہ ہے کہ ان چیزوں کی گواہی کے وقت مطلق چھوڑ دے اور تفسیر نہ کرے ] یعنی یوں نہ کہے کہ میں سن کر گواہی دے رہا ہوں [ اور اگر قاضی کے سامنے تفسیر کردیا کہ میں سن کر گواہی دے رہا ہوں تو اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی ، جیسا کہ اور ملکیت کے قبضہ کرنے میں گواہی کو مطلق چھوڑتے ہیں اور اگر تفسیر کر دے تو گواہی قبول نہیں کی جاتی اسی طرح یہاں ہے
لغت : اطلق : یہاں اطلق کا مطلب یہ ہے کہ گواہ یہ نہ کہے کہ میں سن کر نسب کی گواہی دے رہا ہوں ، بلکہ اس کو مطلق چھوڑ دے ،کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ خود گواہ کو اس کی اولاد ہونے کا یقین نہیں ہے ، صرف سن کر گواہی دے رہا ہے ، اور پہلے حدیث گزر چکی ہے کوئی چیزروز روشن کی طرح نہ معلوم ہو جائے تب تک اس کی گواہی نہ دے ۔ یفسر : کا مطلب یہ ہے کہ اس کی تفسیر کرے کہ میں سن کر گواہی دے رہاہوں ۔اس صورت میں خود گواہ کو یقین نہیں ہے اس لئے اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی ۔معاینة الید فی الاملاک: املاک سے مراد ہے ، خرید وفروخت: یعنی خرید فروخت میں یوں کہے کہ میں نے سنا ہے کہ زید اس مکان کا مالک ہے ، تو گواہی قبول نہیں کی جائے گی ، کیونکہ خود گواہ کو یقین نہیں ہے ۔
تشریح : اوپر کے پانچوں قسموں میں سن کر ہی گواہی دے رہا ہے پھر بھی قاضی کے سامنے یہ تفسیر نہ کرے کہ میں سن کر گواہی دے رہا ہوں ، بلکہ یقین کے ساتھ کہے کہ یہ اس کی بیوی ہے ، اور تفسیر کیا تو اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی ، جیسے کہ خرید و فروخت میں کہے کہ میں سن کر گواہی دے رہاں ہوں تو اس کی گواہی قبول نہیں کی جاتی ہے ۔
ترجمہ: ٥ ایسے ہی اگر کسی انسان کو دیکھا کہ قاضی کی کرسی پر بیٹھا ہوا ہے اور مدعی اور مدعی علیہ اس کے پاس آتے ہیں تو دیکھنے والے کے لئے جائز ہے کہ گواہی دے کہ یہ قاضی ہے ۔
تشریح : واضح ہے۔