۱؎ وہذا استحسان۔ والقیاس أن لا تجوز لأن الشہادۃ مشتقۃ من المشاہدۃ وذلک بالعلم ولم یحصل فصار کالبیع۔ وجہ الاستحسان أن ہذہ أمور تختص بمعاینۃ أسبابہا خواص من الناس ویتعلق بہا أحکام تبقی علی انقضاء القرون فلو لم تقبل فیہا الشہادۃ بالتسامع أدی إلی الحرج وتعطیل الأحکام بخلاف البیع لأنہ یسمعہ کل أحد ۲؎ وإنما یجوز للشاہد أن یشہد بالاشتہار وذلک بالتواتر أو بإخبار من یثق بہ کما قال في الکتاب۔ ویشترط أن یخبرہ رجلان عدلان أو رجل وامرأتان لیحصل لہ نوع علم۔۳؎ وقیل في الموت یکتفي بإخبار واحد أو واحدۃ لأنہ قلما
ترجمہ : ١ یہ سن کر گواہی دینا استحسان ہے ، اور قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ جائز نہ ہو ، اس لئے کہ شہادت مشاہدہ سے مشتق ہے ، اور یہ جاننے سے ہوگا ، اور یہ جاننا نہیں ہوا ، تو بیع کی طرح ہوا ] کہ بغیر دیکھے گواہی جائز نہیں ہے [ لیکن استحسان کی وجہ یہ ہے کہ یہ اوپر کی پانچ چیزیں خاص ہی آدمی دیکھ سکتا ہے ، اور انکے احکام بہت بعد کے زمانے تک باقی رہتے ہیں پس اگر اس میں سن کر گواہی قبول نہ کی جائے تو حرج ہوگا اور احکام معطل ہوجائیں گے ، بخلاف بیع کے کہ ہر آدمی اس کو سن سکتا ہے ۔
تشریح : قیاس کا تقاضہ یہ ہے کہ دیکھے بغیر ان چیزوں کی گواہی نہ دے ، لیکن اوپر کی پانچ چیزوں کو دیکھنے والے چند ہی لوگ ہوتے ہیں ، اور انکے احکام بہت بعد میں پیش آتے ہیں، جیسے نکاح بہت پہلے ہوتا ہے اور طلاق کا معاملہ بہت بعد میں پیش آتا ہے ، اب اگر نکاح میں شریک ہونے والے ہی کی گواہی قبول کی جائے تو حرج واقع ہوگا اور احکامات معطل ہوں گے، اس لئے سن کر اور مشتہر ہونے پر گواہی دے تب بھی قبول کر لی جائے گی ، بیع کا معاملہ اس کے علاوہ ہے ، کیونکہ خرید و فروخت کو ہر آدمی دیکھ سکتا ہے ، اور اس کے فسخ کا معاملہ جلدی پیش آتا ہے اس لئے اس میں مشاہدہ بغیر گواہی قبول نہیں کی جائے گی ۔
ترجمہ : ٢ ان گواہوں کے لئے جائز ہے کہ مشہور ہونے پر گواہی دے ، اور یہ تواتر سے ہوگا یا ایسے آدمی کے خبر دینے پر ہوگا جس پر اعتماد ہو جیسا کہ متن میں کہا ہے، اور شرط یہ ہے کہ گواہ کو دو مرد خبر دے یا ایک مرد اور دو عورتیں خبر دے تاکہ ایک قسم کا علم حاصل ہوجائے ۔
تشریح : ان پانچ چیزوں کے مشہور ہونے پر گواہی دے سکتا ہے ، تو اس کی دو صورتیں ہیں ]١[ ایک یہ کہ بہت سارے لوگ خبر دے ، جسکو تواتر کہتے ہیں ۔]٢[ اور دو سری صورت یہ ہے کہ دو مرد خبر دے ، یا ایک مرد اور دو عورتیں خبر دے تاکہ گواہی کی شرط پوری ہوجائے اور اس کی خبر دینے سے علم حاصل ہوجائے ، اور گواہی دے سکے ۔
ترجمہ :٣ اور کہا گیا ہے کہ موت میں ایک مرد یا ایک عورت کی خبر کافی ہے ، اس لئے کہ ایک دو آدمی کے علاوہ کم لوگ