یشہد بہذہ الأشیاء إذا أخبرہ بہا من یثق بہ
]٤[… دخول : وطی کرتے وقت حاضر نہیں ہے اور نہ ہو سکتا ہے ، لیکن قرائن سے گواہی دے سکتے ہیں کہ یہ عورت دخول کی ہوئی ہے
٥[ …قاضی کی ولایت، قاضی بناتے وقت موجود نہیں ہے ، لیکن ایک آدمی عہدہ قضا پر بیٹھتا ہے تو گواہی دے سکتا ہے کہ یہ قاضی ہے
وجہ : اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ دیکھے پھر گواہی دے ۔لولا جاء وا علیہ باربعة شھداء فاذ لم یأتوا بالشھداء فاولئک عند اللہ ھم الکاذبون ۔ (آیت ١٣ ، سورة النور ٢٤) اس آیت میں شہداء کا لفظ دیکھنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے ، کہ چار آدمی دیکھے اور گواہی دے ۔ (٢) اس آیت میں بھی شہداء دیکھنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔ و لا یأب الشھداء اذا ما دعوا ۔( آیت ٢٨٢، سورت البقرة ٢) اس لئے معاملہ دیکھے بغیر گواہی نہ دے ۔
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نسب وغیرہ میں سن کر گواہی دینا بھی جائز ہے۔
وجہ: (١) وقال النبی ۖ ارضعتنی وابا سلمة ثوبیة (٢)دوسری روایت میں ہے ۔عن ابن عباس قال النبی ۖ فی بنت حمزة لا تحل لی یحرم من الرضاعة ما یحرم من النسب،ھی ابنة اخی من الرضاعة (بخاری شریف، باب الشھادة علی الانساب والرضاع المستفیض والموت القدیم ،ص٤٢٨، نمبر ٢٦٤٥٢٦٤٤) اس حدیث میں آپ نے رضاعت کی خبر دی ہے۔ آپۖ نے بچپنے میں دودھ پیا ہے جو یاد نہیں ہوگا۔ اس لئے سن کر خبر دی کہ حضرت حمزہ میرے رضاعی بھائی ہیں ۔جس سے معلوم ہوا کہ ان باتوں کی گواہی دیکھے بغیر سن کر دے سکتا ہے (٢) اس قول تابعی میں ہے ۔وقال الشعبی او ابن سیرین وعطاء وقتادة السمع شھادة وکان الحسن یقول لم یشھدونی علی شیء ولکن سمعت کذا وکذا (بخاری شریف، باب شھادة المختبیٔ،ص ٤٢٧،نمبر٢٦٣٨ مصنف عبد الرزاق ، باب السمع شھادة وشھادة المختفی ،ج ثامن ، ص ٢٧٧، نمبر ١٥٦١٢) اس قول تابعی سے معلوم ہوا کہ ان باتوں کی سن کر گواہی دے سکتا ہے۔(٣)اور علامت کے ذریعہ گواہی دے اس کی دلیل یہ حدیث ہے۔سألت انس بن مالک ... فقال رسول اللہ ۖ ابصروھا فان جاء ت بہ ابیض سبطا قضیٔ العینین فھو لھلال بن امیة وان جائت بہ اکحل جعد احمش الساقین فھو لشریک بن سحمائ۔قال فانبأت انھاجاء ت بہ اکحل جعد حمش الساقین (مسلم شریف، باب کتاب اللعان،ص ٦٥٠، نمبر ٣٧٥٧١٤٩٦) اس حدیث میں آپۖ نے بچے کی علامت بتائی کہ گورے رنگ کاہو تو ہلال بن امیہ کا ہے اور گھنگھریالے بال والا ہو تو شریک بن شحماء کا بچہ ہے۔ اس میں علامت کے ذریعہ نسب کا فیصلہ کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوا کہ بعض مرتبہ علامت کو دیکھ کر بھی گواہی دی جا سکتی ہے