Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 9

261 - 515
 الخط یشبہ الخط فلم یحصل العلم۔ ۲؎ قیل ہذا علی قول أبي حنیفۃ رحمہ اللہ۔ وعندہما یحل لہ أن یشہد۔ وقیل ہذا بالاتفاق۳؎  وإنما الخلاف فیما إذا وجد القاضي شہادتہ في دیوانہ أو قضیتہ لأن ما یکون في قمطرہ فہو تحت ختمہ یؤمن علیہ من الزیادۃ والنقصان فحصل لہ العلم 

دے۔(٣) عن طاوس عن ابیہ انہ کان یجیز الشھادة علی معرفة الکتاب۔  (مصنف عبد الرزاق ، باب الشاھد یعرف کتابہ ولا یذکرہ ،ج ثامن ، ص ٢٧٦ نمبر١٥٦٠٩) اس قول تابعی میں بھی ہے کہ کتابت یاد ہو تو گواہی دے ۔ 
ترجمہ:  ٢  بعض حضرات نے فرمایا کہ یہ امام ابو حنیفہ  کا قول ہے ، اور صاحبین  فرماتے ہیں کہ بغیر واقعہ یاد آئے بھی گواہی دے سکتا ہے ، اور بعض حضرات نے فرمایا کہ یہ بالاتفاق ہے کہ جائز نہیں  ہے ۔ 
تشریح : بعض حضرات نے فرمایا کہ یہ امام ابو حنیفہ  کا قول ہے کہ بغیر واقعہ یا د آئے صرف خط دیکھ کر گواہی نہ دے ، اور صاحبین  فرماتے ہیں کہ دے سکتا ہے ، اور ایک روایت یہ بھی ہے کہ بالاتفاق یہ بات ہے کہ واقعہ یا د آئے بغیر گواہی نہ دے ۔ 
ترجمہ  : ٣  صرف اختلاف اس صورت میں ہے جبکہ قاضی گواہ کی گواہی کو اپنے فائل میں پائے ، یا اپنے حکم نامے میں پائے ، اس لئے کہ جو کچھ اس کے فائل کے اندر ہے وہ  اس کے مہر کے تحت ہے اور مہر کی وجہ سے کمی زیادتی سے محفوظ ہے اس لئے اس سے قاضی کو علم یقینی حاصل ہوگیا ۔ ، اور جو گواہی چیک پر لکھا ہوا ہے وہ اس درجے میں نہیں ہے ، اس لئے کہ چیک تو دوسرے کے ہاتھ کا لکھا ہوتا ہے ] اس لئے یقینی علم حاصل نہیں ہو سکتا ۔ 
لغت  : دیوان : حساب کا دفتر ۔: قمطرة : بستہ، بستہ یا فائل کو قاضی اپنا مہر لگا کر اس میں کاغذ رکھتے تھے ، اس لئے اس میں کوئی آدمی تبدیلی نہیں کر سکتا ہے ، اس لئے اس کے اندر کے کاغذ میں جو گواہی لکھی ہوئی ہے اس  سے یقینی علم حاصل ہوتا ہے ۔ دستاویز : قاضی جو کچھ لکھ کر گواہوں کو دیتا ہے اس کو دستاویز ، کہتے ہیں ، یہ چونکہ دوسرے کے ہاتھ کا لکھا ہوا ہوتا ہے اس لئے تبدیلی ہونے سے محفوظ نہیں ہے اس لئے اس میں جو کچھ لکھا ہوا ہے اس سے علم یقینی حاصل نہیں ہوتا ۔الصک : چیک : پچھلے زمانے میں یہ بھی دستاویز کی طرح قاضی کا لکھا ہوا چیک ہوتا تھا ، یہ بھی دوسرے کے ہاتھوں کا لکھا ہوا ہوتا ہے اس لئے اس میں بھی تبدیلی کا خطرہ ہے اس لئے اس سے بھی علم یقینی حاصل نہیں ہوتا ، اس لئے واقعہ یاد نہ ہو تو صرف اس کو دیکھ کر گواہی دینا جائز نہیں ہے ۔ 
تشریح: فرماتے ہیں کہ اختلاف اس صورت میں ہے جبکہ قاضی گواہی کے کاغذات کو اپنے فائل کے اندر پائے اور واقعہ یاد نہ آئے تب بھی امام ابو حنیفہ  کے نزدیک فیصلہ کرنا جائز نہیں ہے اور صاحبین  کے نزدیک جائز ہے ۔ 
 وجہ: صاحبین  فرماتے ہیں کہ قاضی کے فائل میں جو کاغذ ہے وہ اس کے مہر کی وجہ سے تبدیلی سے محفوظ ہے اس لئے واقعہ یاد 

Flag Counter