بنفسہا وإنما تصیر موجبۃ بالنقل إلی مجلس القضاء فلا بد من الإنابۃ والتحمیل ولم یوجد(۵۰۵) وکذا لو سمعہ یشہد الشاہد علی شہادتہ لم یسع للسامع أن یشہد۱؎ لأنہ ما حملہ وإنما حمل غیرہ۔(۵۰۶) ولا یحل للشاہد إذا رأی خطہ أن یشہد إلا أن یتذکر الشہادۃ۱؎ لأن
معاملات میں گواہ پر گواہ بنانا جائز ہے۔
ترجمہ : ١ اس لئے کہ خود شہادت کسی چیز کو ثابت نہیں کرتی ، مجلس قضا تک منتقل کرے تب وہ مدعی علیہ پر چیز ثابت کرتی ہے ، اس لئے نائب بنانا اور کسی کے ماتھے پر ڈالنا ضروری ہے ، اور نائب بنانا یہاں پایا نہیں گیا ] اس لئے گواہی نہیں دے سکتا [
تشریح : یہ صاحب ہدایہ کی دلیل عقلی ہے ۔ کہ صرف گواہ بننے سے مدعی علیہ پرکوئی چیز واجب نہیں ہوتی جب تک کہ قاضی کے سامنے اس کو ذکر نہ کرے ، اور منتقل نہ کرے ، اسی طرح جب تک کہ اصل گواہ کسی کو گواہ نہ بنائے اس وقت تک وہ گواہ نہیں بن سکتا ۔ اصل دلیل یہ ہے کہ اصل گواہ کا حق ہے کہ مجلس قضا میں جا کر گواہی دے ، اب دوسرا آدمی اس کی گواہی دے گا تو اصل گواہ کا حق چھن جائے گا ، اس لئے جب تک وہ اپنے حق کو کسی اور کو اپنی رضامندی سے سپرد نہ کرے وہ آدمی گواہ نہیں بن سکتا ۔
لغت : انابة : نائب بنانا ۔ تحمیل : حمل سے مشتق ہے، کسی کے ماتھے پر ڈالنا ۔
ترجمہ :(٥٠٥)ایسے ہی اگر سنا کہ گواہ بنا رہا ہے کسی کی گواہی پر تو سننے والے کے لئے گنجائش نہیں ہے کہ اس پر گواہی دے
ترجمہ : ١ اس لئے کہ اس آدمی کو گواہ نہیں بنایا ہے ، بلکہ دوسرے آدمی کو گواہ بنایا ہے۔
تشریح : واضح ہے ۔
ترجمہ : (٥٠٦) اور نہیں حلال ہے گواہ کے لئے اگر وہ اپنا خط دیکھے یہ کہ گواہی دے مگر یہ کہ گواہی یاد ہو۔
ترجمہ : ١ اس لئے کہ آدمی کا خط دوسرے آدمی کے خط سے مشابہ ہوتا ہے اس لئے اس سے علم حاصل نہیں ہوا۔
تشریح: ایک آدمی نے اپنا خط دیکھا جس میں گواہی لکھی ہوئی تھی لیکن گواہی کا پورا واقعہ یاد نہیں ہے تو صرف خط دیکھ کر گواہی دینا جائز نہیں ہے۔ ہاں پورا واقعہ یاد آ جائے تو اب وہ گواہی دے سکتا ہے۔
وجہ:(١) خط خط کے مشابہ ہوتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کسی اور نے خط لکھا ہو اور یہ سمجھتا ہو کہ یہ میرا خط ہے۔اس لئے گواہی یاد ہوئے بغیر خط دیکھ کر گواہی نہ دے(٢) اس قول تابعی میں ہے ۔ قال سألت الشعبی قلت یشھدنی الرجل علی الرجل بالشھادة فاوتی بکتاب یشبہ کتابی و خاتم یشبہ خاتمی ولا اذکر فقال الشعبی لا تشھد حتی تذکر۔ (مصنف عبد الرزاق ، باب الشاھد یعرف کتابہ ولا یذکرہ ،ج ثامن ، ص ٢٧٦ نمبر ١٥٦٠٨سنن للبیہقی، باب وجوہ العلم بالشھادة، ج عاشر ، ص ٢٦٦، نمبر ٢٠٥٨٨)اس قول تابعی سے معلوم ہوا کہ جب تک واقعہ یاد نہ آئے تو خط دیکھ کر گواہی نہ