وہما علی تحکیمہما یقبل قولہ لأن الولایۃ قائمۃ ولو أخبر بالحکم لا یقبل قولہ لانقضاء الولایۃ کقول المولی بعد العزل۔(۴۵۲) وحکم الحاکم لأبویہ وزوجتہ وولدہ باطل والمولی والمحکم فیہ سواء۱؎ وہذا لأنہ لا تقبل شہادتہ لہؤلاء لمکان التہمۃ فکذلک لا یصح القضاء لہم بخلاف ما إذا حکم علیہم لأنہ تقبل شہادتہ علیہم لانتفاء التہمۃ فکذا القضاء۲؎ ولو حکما
اور دونوں ابھی بھی حکم پر قائم ہیں توقاضی اس کی بات قبول کرے گا ، اس لئے کہ حکم کی ولایت ابھی قائم ہے ، اور اگر فیصلہ کر دینے کی خبر دی تو قاضی اس کی بات قبول نہیں کرے گا ، اس لئے کہ حکم کی ولایت ختم ہوگئی ، جس طرح قاضی کے معزول ہونے کے بعد اس کی بات قبول نہیں کی جاتی ہے۔
اصول :یہ مسئلہ اس اصول پر ہے، کہ اگر حکم اپنے عہدے پر ابھی بھی موجود ہیں اور کوئی بات کہہ رہے ہیں تو قاضی اس کی بات مان کر نافذ کردے گا ، اور اگر حکم کے عہدے سے معزول ہوگئے ہیں اس کے بعد کوئی بات کہہ رہے ہیں تو اب وہ عام آدمی کی طرح ہوگئے اس لئے قاضی اس کی بات کو نافذ نہیں کرے گا ، وہ الگ سے اپنا فیصلہ صادر کرے گا ۔
تشریح ؛ حکم کے عہدے پر رہتے ہوئے اگر حکم نے اس بات کی خبر دی کہ مدعی ، یا مدعی علیہ نے میرے سامنے فلاں بات کا اقرارا کیا ہے ، یا یہ کہا کہ میں نے گواہوں کی جانچ پڑتال کی ہے وہ عادل ہیں تو قاضی اس کی بات مان کر نافذ کردے گا ، اس لئے کہ ابھی وہ حکم کے عہدے پر ہیں ، اس لئے اس کی بات قبول کی جائے گی ۔اور اگر یہ کہا کہ ہم نے فلاں چیز کا فیصلہ کیا تھا، اور اب وہ نافذ کروانا چاہتا ہے تو اس وقت کے کہنے کی بنیاد پرقاضی کو اس فیصلے کو قبول کرنا ضروری نہیں ہے۔
وجہ : (١)کیونکہ جب حکم فیصلہ کر چکے تو فیصلہ کرتے ہی وہ حکم کے عہدے سے معزول ہوگئے اور اب وہ عام آدمی بن گئے اس لئے اب قاضی کو اس کی بات ماننا ضروری نہیں رہا ۔ اس کی ایک مثال دیتے ہیں کہ قاضی معزول ہوجائے اس کے بعد یہ کہے کہ میں نے یہ فیصلہ کیا تھا تو اس کہنے کی بنیاد پر قاضی کے فیصلے کو نافذ کرنا ضروری نہیں ہے ، اس لئے کہ وہ اب ایک عام آدمی بن گیا
ترجمہ : (٤٥٢) حاکم کا فیصلہ اپنے والدین کے لئے اور اپنی بیوی کے لئے اپنی اولاد کے لئے باطل ہے۔اور قاضی کا فیصلہ اور حکم کا فیصلہ اس بارے میں دونوں برابر ہیں ] یعنی دونوں نہیں کر سکتے [۔
ترجمہ : ١ اور یہ اس لئے کہ اس کی گواہی ان لوگوں کے لئے قبول نہیں کی جاتی ، کیونکہ حمایت کرنے کی تہمت ہے ، اسی طرح ان دونوں کا فیصلہ ان لوگوں کے حق میں صحیح نہیں ہے ۔ بخلاف ان لوگوں کے خلاف فیصلہ کرے تو قابل قبول ہے ، اس لئے کہ ان کے خلاف گواہی دے تو قابل قبول ہے ، کیونکہ اس میں حمایت کی تہمت نہیں ہے اسی طرح فیصلے کا معاملہ ہے ۔
تشریح : حاکم چاہے قاضی ہو یا پنچ ہو اپنے والدین کے لئے،اپنی اولاد کے لئے یا اپنی بیوی کے لئے فیصلہ کرے تو وہ باطل