Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 9

182 - 515
 رجلین لا بد من اجتماعہما لأنہ أمر یحتاج فیہ إلی الرأي واللہ أعلم بالصواب . 

ہے۔ البتہ ان کے خلاف فیصلہ کرے تو نافذ ہوگا۔ کیونکہ اس میں  حمایت کرنے کی تہمت نہیں ہے۔ 
وجہ : (١) یہ لوگ قریبی رشتہ دار ہیں اس لئے شبہ ہے کہ ان کی رعایت کرکے فیصلہ کیا ہوگا۔اس لئے ان کے حق میں فیصلہ باطل ہے (٢)  اس عمل صحابی میں ہے کہ حضرت عمر امیر المومنین تھے اس زمانے میں کسی پر ان کا حق تھا تو خود فیصلہ نہیں فرمایا بلکہ حضرت زید بن ثابت کو فیصلے کا حکم بنایا ۔ سمعت الشعبی قال: کان بین عمر وابی خصومة فقال عمر اجعل بینی وبینک رجلا قال فجعلا بینھما زید بن ثابت قال فأتوہ قال فقال عمر اتیناک لتحکم بیننا الخ ۔( سنن للبیہقی ، باب القاضی لا یحکم لنفسہ ، ج عاشر ، ص ٢٤٣، نمبر ٢٠٥١٠) اس اثر میں ہے کہ قاضی اپنے معاملے کا فیصلہ خود نہ کرے۔کیونکہ تہمت ہوگی ۔اسی پر قیاس کرتے ہوئے قریبی رشتہ دار کا بھی فیصلہ نہ کرے کیونکہ رعایت کرنے کی تہمت ہوگی(٣) ان لوگوں کے لئے گواہی جائز نہیں ہے تو فیصلہ کیسے جائز ہوگا۔اس قول تابعی میں ہے ۔ عن ابراہیم قال اربعة لا تجوز شھادتھم الوالد لولدہ،والولد لوالدہ، والمرأة لزوجھا والزوج لامرأتہ، والعبد لسیدہ والسید لعبدہ،والشریک لشریکہ فی الشیء اذا کان بینھما،واما فیما سوی ذلک فشھادتہ جائزة ۔ (مصنف عبد الرزاق ، باب شہادة الاخ لاخیہ والابن لابیہ والزوج لامرأتہ، ج ثامن ، ص ٢٦٨، نمبر ١٥٥٦٠ مصنف ابن ابی شیبة، ٤٢٥فی شھادة والولد لوالدہ ، ج رابع، ص ٥٣٢، نمبر ٢٢٨٥١) اس اثر میں ہے کہ والدین اور بچے اور بیوی کے لئے گواہی جائز نہیں تو ان کے حق میں فیصلہ کیسے جائز ہوگا؟
ترجمہ  : ٢  اور اگر دو آدمیوں کو پنچ بنایا تو رائے میں دونوں کا جمع ہونا ضروری ہے اس لئے کہ یہ ایسا معاملہ ہے دونوں کی رائے کی ضرورت پڑتی ہے ، و اللہ اعلم بالصواب ۔ 
تشریح: دو آدمیوں کو پنچ بنایا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں کی رائے سے فیصلہ ہو ااسلئے رائے میں دونوں کا جمع ہونا ضروری ہے 
وجہ  : (١) اس آیت کے اشارے سے معلوم ہوتا ہے دونوں کی رائے کی ضرورت ہے ۔و ان خفتم شقاق بینھما فابعثوا حکما من اھلہ و حکما من اھلہا ان یریدا اصلاحا یوفق اللہ بینھما ان اللہ کان علیما خبیرا ۔ ( آیت ٣٥، سورت النساء ٤) اس آیت میں یریدا اصلاحا ، میں تثنیہ کا صیغہ ہے جس سے معلوم ہوا کہ دونوں کی رائے کی ضرورت ہے ۔ 

Flag Counter