ولہذا لا یملکان الإباحۃ فلا یستباح برضاہما ۲؎ قالوا وتخصیص الحدود والقصاص یدل علی جواز التحکیم في سائر المجتہدات کالطلاق والنکاح وغیرہما وہو صحیح إلا أنہ لا یفتی بہ ویقال یحتاج إلی حکم المولی دفعا لتجاسر العوام۳؎ وإن حکماہ في دم خطإ فقضی بالدیۃ علی العاقلۃ لم ینفذ حکمہ لأنہ لا ولایۃ لہ علیہم إذ لا تحکیم من جہتہم۔ ولو حکم علی القاتل بالدیۃ في مالہ ردہ القاضي ویقضي بالدیۃ علی العاقلۃ لأنہ مخالف لرأیہ ومخالف للنص أیضا
وجہ : حدود اور قصاص کا معاملہ اہم ہے۔ یہ فیصلے صرف قاضی کی عدالت سے ہوتے ہیں اس لئے ان میں حکم بنا کر فیصلہ کرنا درست نہیں ہے (٢) اس قول صحابی میں ہے ۔ قال سفیان اذا حکم رجلان حکما فقضی بینھما فقضاء ہ جائز الا فی الحدود (مصنف عبد الرزاق ، باب ہل یقضی الرجل بین الرجلین ولم یول ؟ وکیف ان فعل ، ج ثامن ، ص٢٣٣، نمبر ١٥٣٧٣) اس اثر میں ہے کہ حدود اور قصاص میں حکم نہ بنائے۔ البتہ معاملات میں بنا سکتا ہے۔
ترجمہ : ٢ علماء فرماتے ہیں کہ حد اور قصاص کی تخصیص اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ باقی اجتہادی معاملے میں حکم بنانا جائز ہے جیسے طلاق ہے ،نکاح ہے ، اور صحیح بات یہی ہے لیکن اس کا فتوی نہیں دیا جا سکتا ہے ، اور کہہ دیا جائے گا کہ اس میں قاضی کے فیصلے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو اس کی جرأت نہ ہوجائے ۔
تشریح : واضح ہے ۔
لغت :حسر : جرأت کرنا ۔مولی : ولی بنانا ، قاضی بنانا ۔
ترجمہ : ٣ اور اگر دونوں نے قتل خطا میں حکم بنایا اور عاقلہ پر دیت کا فیصلہ کیا تو ان کا حکم نافذ نہیں ہوگا اس لئے کہ عاقلہ پر فیصل کی ولایت نہیں ہے اس لئے کہ عاقلہ نے ان دونوں کو حکم نہیں بنایا ہے ۔ اور اگر صرف قاتل پر اس کے مال میں دیت کافیصلہ کیا تو قاضی اس کو رد کردے گا اور عاقلہ پر دیت کا فیصلہ کرے گا اس لئے کہ یہ اس کی رائے کے خلاف ہے ، اور حدیث کے بھی مخالف ہے ۔
لغت : عاقلہ : قتل کرنے والے کے رشتہ دار ، قتل کرنے والے کے ساتھ تجارت کرنے والے٫ عاقلہ، کہلاتے ہیں ، اگر اس نے غلطی سے کسی کو قتل کیا ، جسکو قتل خطا ، کہتے ہیں تو اس میں مقتول کی دیت کی رقم ایک سو اونٹ ،ان سب عاقلہ پر لازم ہوتا ہے ، اور سب پر تقسیم کردیا جاتا ہے اور تین سال میں یہ سب مقتول کے وارث کو دیا جاتا ہے۔ عاقلہ پر اس لئے لازم ہوتا ہے تاکہ یہ آیندہ قتل کرنے سے روکے ۔ القتل باقرارہ : اگر قاتل نے قتل کا اقرار کیا تب مقتول کی دیت خود قاتل کے مال میں لازم ہوتی