Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 9

178 - 515
لصدور حکمہ عن ولایۃ علیہما(۴۴۹) وإذا رفع حکمہ إلی القاضي فوافق مذہبہ أمضاہ ۱؎ لأنہ لا فائدۃ في نقضہ ثم في إبرامہ علی ذلک الوجہ وإن خالفہ أبطلہ۲؎  لأن حکمہ لا یلزمہ لعدم التحکیم منہ۔(۴۵۰) ولا یجوز التحکیم في الحدود والقصاص۱؎  لأنہ لا ولایۃ لہما علی دمہما 

ص٧٨٤، نمبر ١٧٦٨ ٤٥٩٦) اس حدیث میں ہے کہ حضرت سعد بن معاذ نے جو فیصلہ فرمایا یہود کو وہ ماننا پڑا۔ جس سے معلوم ہوا کہ حکم فیصلہ کردے تو دونوں فریقوں کو ماننا پڑے گا (٢) ایک حدیث میں ہے۔ عن الحسن قال قال رسول اللہ ۖ من دعی الی حکم من الحکام فلم یجب فھو ظالم،ھذا مرسل ۔ (سنن للبیہقی، باب من دعی حکم حاکم ،ج عاشر، ص ٢٣٦، نمبر ٢٠٤٨٥) اس حدیث مرسل سے معلوم ہوا کہ فیصلہ ہو جائے پھر اس کو قبول نہ کرے تو وہ ظالم ہے۔
ترجمہ  :(٤٤٩)اگر اس کا فیصلہ قاضی کے پاس لایا جائے اور وہ اس کے مذہب کے موافق ہو تو اس کو نافذ کردے گا] اس لئے کہ اس کو توڑے اور اسی کو پھر مضبوط کرے اس میں فائدہ نہیں [ اور اس کے مخالف ہوتو باطل کردے۔
ترجمہ  : ١  اس لئے کہ حکم کا فیصلہ قاضی پر لازم نہیں ہے ، کیونکہ قاضی نے اس کو حکم نہیں بنایا ۔
تشریح  : پنچ کا فیصلہ قاضی ٔ وقت کے پاس لے جایا گیا۔ پس اگر وہ فیصلہ قاضی کے مذہب اور صواب دید کے مطابق ہو تو قاضی اس کو نافذ کردے۔اور اگر وہ ان کی صواب دید کے مخالف ہو یا شریعت کے مخالف ہو تو اسکو رد کردے اور اپنا فیصلہ نافذ کرے
وجہ:  (١)چونکہ یہ با ضابطہ قاضی نہیں ہے اس لئے اس کے فیصلے میں وہ قوت نہیں ہے۔اس لئے قاضی کے اختیار میں ہے۔البتہ اس کے مذہب کے  موافق ہو تو اس کے توڑنے میں کوئی فائدہ نہیں ہے اس لئے اس کو نافذ کردے۔ اور مذہب کے مخالف ہو تو رد کردے ، کیونکہ قاضی نے حکم کو فیصل نہیں بنایا ہے (٢)  اس قول تابعی میں ۔عن الثوری قال اذا قضی القاضی بخلاف کتاب اللہ او سنة نبی اللہ او شیء مجتمع علیہ، فان القاضی بعدہ یردہ،فان کان شیئا برای الناس لم یردہ ویحمل ذلک ما تحمل (٣) اور دوسری قول تابعی میں ہے۔سمعت شریحا یقول انی لا ارد قضاء کان قبلی۔  (مصنف عبد الرزاق ، باب ھل یرد قضاء القاضی او یرجع عن قضائہ ، ج ثامن ، ص ٢٣٤، نمبر١٥٣٧٧ ١٥٣٧٦) اس اثر میں ہے کہ شریعت کے موافق ہوتو نافذ کرے اور مخالف ہوتو رد کرے، اسی پر حکم کے فیصلے کو قیاس کیا جائے گا۔
ترجمہ :(٤٥٠)حدود اور قصاص میں حکم بنانا جائز نہیں ہے۔
ترجمہ:  ١  اس لئے فیصل بنانے والوں کو اپنے خون]جان[ پر ولایت نہیں ہے اس لئے  یہ دونوں اپنی جان مباح کروانے کے بھی مالک نہیں ہیں ۔ 
تشریح  : حدودو اور قصاص کا فیصلہ صرف حاکم اور جج کر سکتے ہیں ، اس کے لئے فیصل مقررر نہیں کیا جا سکتا ۔ 

Flag Counter