Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 9

177 - 515
یجب أن یجوز عندنا کما مر في المولی(۴۴۷) ولکل واحد من المحکمین أن یرجع ما لم یحکم علیہما ۱؎ لأنہ مقلد من جہتہما فلا یحکم إلا برضاہما جمیعا(۴۴۸) وإذا حکم لزمہما ۱؎  

ترجمہ  : ٤  اور فاسق کو حکم بنایا تو لگتا ہے کہ ہمارے نزدیک جائز ہوجائیگا ، جیسا کہ قاضی بنانے کے بارے میں تفصیل گزر گئی ہے  
تشریح  : کتاب آداب القاضی  مسئلہ نمبر ٤٠٤) میں گزر چکا  ہے کہ فاسق کو قاضی بنانا اچھا نہیں ہے لیکن بنا دیا تو بن جائے گا ، اسی طرح فاسق کو حکم بنانا اچھا نہیں  ہے ، لیکن بنا دیا تو بن جائے گا ۔۔ مولی : جسکو قاضی بنایا جائے ۔
وجہ : (١) لیکن اگر قاضی بنا دیا تو جائز ہوجائے گا اس کی دلیل یہ قول تابعی ہے ۔و اجازہ عمر بن حریث قال : و کذالک یفعل بالکاذب الفاجر ، و قال الشعبی و ابن سیرین و عطاء و قتادة السمع شہادة ۔( بخاری شریف ، باب شہادة ا المختبی ، ص ٤٢٦، نمبر ٢٦٣٨) اس قول تابعی میں ہے کہ جھوٹے اور فاجر کی گواہی قابل قبول ہے ۔
 ترجمہ: (٤٤٧)حکم بنانے والوں میں سے ہر ایک کے لئے جائز ہے کہ وہ رجوع کریں جب تک کہ ان پر فیصلہ نہ کیا ہو۔ 
ترجمہ  : ١  اس لئے کہ انہیں دونوں کے بنانے سے بنا تھا  
تشریح :  جن لوگوں نے حکم بنایا تھا ان کو یہ اختیار ہے کہ جب تک پنچ نے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے اس سے پہلے پہلے حکم بنانا واپس لے لیں ۔اگر انہوں نے واپس لے لیا تو یہ حکم بر قرار نہیں رہے گا۔ اور نہ اب اس کا فیصلہ نافذ ہوگا۔ 
وجہ:  دونوں کے حکم بنانے سے حکم بناتھا اس لئے فیصلہ سے پہلے حکم کا انکار کردے تو وہ انکار کر سکتے ہیں۔ یہ امیر المومنین کی جانب سے حکم نہیں تھا کہ ہمیشہ رہے۔
ترجمہ  : (٤٤٨)  اور اگر دونوں پر فیصلہ کردیا تو دونوں کو لازم ہو جائے گا۔
ترجمہ  : ١  اس لئے کہ ان دونوں ہی نے اس کو حکم بنایا تھا جسکی وجہ سے اس نے فیصلہ صادر کیا ۔ 
تشریح  :حکم نے فیصلہ کردیا تو اب دونوں کو ماننا ضروری ہے۔
وجہ:(١)  کیونکہ دونوں نے حکم مانا تھا (٢) بنو قریظہ نے حضرت سعد بن معاذ کو حکم مانا پھر انہوں نے جو فیصلہ فرمایا تو وہ بنو قریظہ کو ماننا پڑا۔حدیث کا ٹکرا یہ ہے۔عن عائشة قالت اصیب سعد یوم الخندق ... فاتاھم رسول اللہ ۖ فنزلوا علی حکمہ فرد الحکم الی سعد۔قال فانی احکم فیھم ان تقتل المقاتلة وان تسبی النساء والذریة وان تقسم اموالھم  (بخاری شریف، باب مرجع النبی ۖ من الاحزاب ومخرجہ الی بنی قریظة ومحاصرتہ ایاھم کتاب المغازی، ص٦٩٨، نمبر ٤١٢٢ مسلم شریف، باب جواز قتال من نقض العہد وجواز انزال اہل الحصن علی حکم حاکم عدل اہل للحکم ، 

Flag Counter