في القذف والفاسق والصبي لانعدام أہلیۃ القضاء اعتبارا بأہلیۃ الشہادۃ ۴؎ والفاسق إذا حکم
المومنین سبیلا۔ (آیت ١٤١، سورة النسائ٤)(٢) اس قول تابعی میں ہے کہ مسلمان کے خلاف غیر مسلم کی شہادت مقبول نہیں تو اس کی قضا کیسے مقبول ہوگی۔عن ابراھیم عن شریح قال: لا تجوز شہادة الیہودی والنصرانی ا لا فی سفر،ولا تجوز الا علی وصیة (مصنف ابن ابی شیبة،٣٥٥ ماتجوز فیہ شہادة الیہودی والنصرانی ،ج رابع، ص ٤٩٥، نمبر ٢٢٤٣٩ مصنف عبد الرزاق، باب شہادة اہل الکفر علی اہل الاسلام،ج ثامن ، ص٢٨١، نمبر١٥٦٣٠) اس قول تابعی سے معلوم ہوا کہ گواہی بھی جائز نہیں ہے۔ ]٣[ذمی بھی اسی میں داخل ہے کہ اس کو حکم بنانا بھی جائز نہیں۔
]٢[ …(١)غلام کو حکم بنانا اس لئے صحیح نہیں ہے کہ اس کو اپنے اوپر اختیار نہیں ہے تو دوسرے پر فیصلے کا اختیار کیسے ملے گا (٢) اس کو تو گواہی دینے کی بھی اجازت نہیں ہے فیصلہ کیسے کرے گا۔قول صحابی میں ہے ۔ روی عن علی والحسن والنخعی والزھری ومجاھد وعطائ لا تجوز شھادة العبید ۔ (سنن للبیہقی، باب من رد شہادة العبید ومن قبلھا ، ج عاشر، ص ٢٧٢، نمبر٨ ٢٠٦٠) اس قول صحابی میں ہے کہ غلام کی گواہی درست نہیں ۔اس لئے اس کو حکم بنانا بھی درست نہیں ہے۔
]٤[…محدود فی القذف کو بھی حکم بنانا درست نہیں ہے۔
وجہ :(١) آیت میں ہے۔و الذین یرمون المحصنات ثم لم یأتوا باربعة شھداء فاجلدوھم ثمانین جلدة ولا تقبلوا لھم شھادة ابدا واولئک ھم الفاسقون (آیت ٤، سورة النور٢٤) اس کی جب گواہی مقبول نہیں تو یہ گواہ سے گواہی لیکر فیصلہ کیسے کرے گا۔
]٥[…فاسق کو حکم بنانا بھی اچھا نہیں ہے کیونکہ وہ عادل نہیں ہے۔تاہم اگر فاسق کو حکم بنادیا تو اس کا فیصلہ نافذ ہو جائے گا۔
وجہ : حجاج بن یوسف فاسق تھا پھر بھی وہ حکم تھا اور اس کے فیصلے نافذ ہوتے تھے۔اس لئے فاسق کو قاضی یا حکم بنادیا اور اس نے فیصلہ کردیا تو نافذ ہو جائے گا۔
]٦[…(١)بچے اور مجنون کو تو عقل ہی نہیں ہے ان کو حکم کیسے بنائے گا۔ اس کی تو گواہی بھی مقبول نہیں ہے۔(٢) قول صحابی میں ہے ۔ارسل الی ابن عباس ... یسألہ عن شھادة الصبیان فقال: لا اری ان تجوز شھادتھم (مصنف عبد الرزاق، باب شھادة الصبیان ، ج ثامن ، ص٢٧١، نمبر١٥٥٧٨) اس قول صحابی میں ہے کہ بچے کی گواہی مقبول نہیں تو اس کو حکم بنانا کیسے درست ہوگا۔اور یہی حال مجنون کا ہے ، کہ اس کو عقل ہی نہیں ہے ۔(٣)عن ابن عباس ....اما علمت ان القلم رفع عن ثلاثة عن المجنون حتی یبرأ و عن النائم حتی یستیقظ و عن الصبی حتی یعقل ۔( ابو داود شریف ، باب فی المجنون یسرق او یصیب حدا ، ، ص ٦١٩، نمبر ٤٣٩٩) حدیث میں ہے کہ بچے اور مجنون کا کوئی اعتبار نہیں ہے ۔