Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 9

171 - 515
بالشہادۃ لقطع المنازعۃ ولا منازعۃ دون الإنکار ولم یوجد۳؎  ولأنہ یحتمل الإقرار والإنکار من الخصم فیشتبہ وجہ القضاء لأن أحکامہما مختلفۃ ۴؎ ولو أنکر ثم غاب فکذلک لأن الشرط 

ہے۔ عن عائشة ان ھندا قالت للنبی ۖ ان ابا سفیان رجل شحیح واحتاج ان آخذ من مالہ ،قال ۖ خذی مایکفیک وولدک بالمعروف۔ (بخاری شریف، باب القضاء علی الغائب ، ص١٢٣٦، نمبر ٧١٨٠ مسلم شریف، باب قضیة ہند ، ص ٧٦٠، نمبر ٤٤٧٧١٧١٤)اس حدیث میں حضرت سفیان حاضر نہیں تھے پھر بھی ان کے مال سے نفقہ لینے کا فیصلہ کیا گیا۔جس سے معلوم ہوا کہ غائب پر فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔
ْترجمہ  : ٢  ہماری دلیل یہ ہے کہ گواہی پر عمل کرنا جھگڑے کو ختم کرنے کے لئے ہے اور انکار کے بغیر جھگڑا ہی نہیں ہے اور مدعی علیہ حاضر نہ ہونے کی وجہ سے انکا ر نہیں پایا گیا اس لئے گواہی پر عمل ہی نہیں ہوگا ۔ 
تشریح  : یہ دلیل عقلی ہے کہ گواہی اس وقت پیش کی جاتی ہے جب مدعی علیہ کی جانب سے انکار ہوتا ہے ، اور یہاں مدعی علیہ حاضر ہی نہیں ہے کہ وہ انکار کرے اس لئے گواہ کی ضرورت ہی نہیں ہے اس لئے قاضی بغیر گواہ کے فیصلہ ہی نہیں کر سکتا ہے ۔اس لئے غائب پر فیصلہ نہیں ہوسکتا۔
ترجمہ  : ٣  اور اس لئے کہ احتمال رکھتا ہے کہ مدعی علیہ اقرار کر لے ] تو فیصلے کی نوعیت اور ہوجائے گی [ اور یہ بھی احتمال رکھتا ہے کہ انکار کر جائے تو ] تو فیصلے کی نوعیت دوسری ہوجائے گی [ اس لئے فیصلے کا طریقہ مشتبہ ہوگیا اس لئے اقرار اور انکار دونوں کے فیصلے کا طریقہ الگ الگ ہے ۔ 
تشریح  : غائب پر فیصلہ نہ کرنے کی یہ بھی دلیل عقلی ہے ۔ کہ مدعی علیہ حاضر ہوتا تو اگر وہ اقرار کرتا تو فیصلے کی نوعیت الگ ہوتی ،کہ گواہی کی ضرورت نہیں پڑتی اورانکار کرتا تو فیصلے کی نوعیت دوسری ہوتی کہ گواہی کی ضرورت پڑتی ، اب مدعی علیہ حاضر ہی نہیں ہے تو کون سی نوعیت کا فیصلہ کرے ، اس لئے  غائب پر فیصلہ ہی نہیں کیا جائے گا ۔ 
ترجمہ  : ٤  اگر مدعی علیہ نے انکار کیا پھر غائب ہوگیا تب بھی جواب یہی ہے کہ فیصلہ نہیں کیا جائے گا کیونکہ فیصلے کے وقت تک انکار  پرقائم رہنا چاہئے ] اور یہاں غائب ہونے کی وجہ سے انکار قائم ہے یا نہیں پتہ نہیں چلتا ، اس لئے فیصلہ نہیں ہوگا [ 
تشریح  : مدعی علیہ ایک مرتبہ دار القضا میں حاضر ہوکر انکار کر گیا ، لیکن فیصلہ کے وقت مدعی علیہ حاضر نہیں ہے ، اس لئے کیا معلوم کہ وہ ابھی اپنے انکار پر بر قرار ہے یا نہیں ، چونکہ اقرار اور انکار کی صورت مشتبہ ہوگئی اس لئے قاضی اس غائب پر فیصلہ صادر نہ کرے ۔ کیونکہ فیصلے کے وقت بھی حتمی طور مدعی علیہ کا انکار پر قائم رہنا ضروری ہے ، تب فیصلہ کر سکے گا ۔  
ترجمہ  : ٥   امام ابو یوسف  کا اس بارے میں اختلاف ہے ۔ 

Flag Counter