Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 9

170 - 515
۲؎ وہذا إذا کانت الدعوی بسبب معین وہي مسألۃ قضاء القاضي في العقود والفسوخ بشہادۃ الزور وقد مرت في النکاح۔(۴۴۳) قال ولا یقضي القاضي علی غائب إلا أن یحضر من یقوم مقامہ۱؎  وقال الشافعي رحمہ اللہ یجوز لوجود الحجۃ وہي البینۃ فظہر الحق۔۲؎  ولنا أن العمل 

جس سے استدلال کیا جا سکتا ہے کہ باطنی طور پر حلال نہیں ہے ۔  
ترجمہ  : ٢  یہ جب ہے کہ سبب معین کے ذریعہ دعوی کیا  ہو ، اور جھوٹی گواہی کے ذریعہ عقد اور عقد کے فسخ میں فیصلے کا مسئلہ ہے ، اور اس کا کچھ حصہ کتاب النکاح میں گزر گیا ۔
تشریح  : کسی چیز کی ملکیت کا دعوی کیا ہو اور یہ وجہ بھی بیان کیا ہو کہ یہ چیز کس وجہ سے میری ہے ، جسکو ٫املاک مقیدہ ، کہتے ہیں اس کی پوری تفصیل اوپر گزر چکی ہے ۔ 
ترجمہ  :(٤٤٣)قاضی غائب پر فیصلہ نہ کرے مگر یہ کہ اس کا کوئی قائم مقام حاضر ہو۔
تشریح  :پہلے تفصیل گزر چکی ہے کہ مدعی علیہ غائب ہو تو اس پر فیصلہ نہ کیا جائے۔ہاں ! اس کا کوئی قائم مقام موجود ہو ،مثلا اس کا وکیل موجود ہو یا وصی موجود ہویا ایسا سبب ہو جو غائب پر بھی لگتا ہواور حاضر پر بھی لگتا ہو یا بار بار خبر دینے کے باوجود حاضر نہ ہوتا ہو،مثلا عورت غائب شوہر پر نفقہ کا دعوی کر رہی ہو اور شوہر زمانے سے غائب ہو اور عورت کے لئے نفقے کی کوئی صورت نہ ہو تو غائب پر فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔
وجہ : (١) عن علی ... فقال ان اللہ سیھدی قلبک ویثبت لسانک فاذا جلس بین یدیک الخصمان فلا تقضین حتی تسمع من الآخر کما سمعت من الاول فانہ احری ان یتبین لک القضاء ۔ (ابو داؤد شریف، باب کیف القضاء ، ص ٥١٤، نمبر ٣٥٨٢ ترمذی شریف ، باب ماجاء فی القاضی لا یقضی بین الخصمین حتی یسمع کلامھما ، ص٢٤٨، نمبر ١٣٣١)اس حدیث میں ہے کہ مدعی علیہ کی بات بھی سنو تب فیصلہ کرو۔اور یہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب مدعی علیہ حاضر ہو یا اس کا قائم مقام حاضر ہواور اپنی بات سنا سکے (٢) اس قول تابعی میں ہے۔سمعت شریحا یقول لایقضی علی غائب۔ (مصنف عبد الرزاق، باب لایقضی علی غائب، ج ثامن ، ص ٢٣٥، نمبر١٥٣٨٥) 
ترجمہ  : ١  امام شافعی نے فرمایا کہ غائب پر فیصلہ کرناجائز ے کیونکہ حجت یعنی گواہ پایا گیا اس لئے حق ظاہر ہوگیا ]اس لئے غائب پر فیصلہ کرنا جائز ہے [
تشریح  : امام شافعی  کی رائے یہ ہے کہ مدعی علیہ مجلس قضا سے غائب ہو تب بھی اس پر فیصلہ کرنا جائز ہے ۔
وجہ  : (١) غائب آدمی پر فیصلہ نہ کریں تو مدعی کا حق ضائع ہوگا اس لئے غائب آدمی پر فیصلہ کرنا جائز ہے ۔(٢) حدیث میں 

Flag Counter