Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 9

169 - 515
ہیں ، یا گواہی اور ثبوت کے بعد قاضی فیصلہ کردے تو چیز مالک کے لئے حلال ہوجاتی ہے ۔ 
دوسری بات یہ یا د رکھنی ہے کہ اگر مدعی کسی چیز کا دعوی کرے اور اس کی وجہ بھی بتائے تو اس کو ٫ املاک مقیدہ ، کہتے ہیں، کیونکہ اس نے ملک کی وجہ بھی بتائی  ۔ مثلا زید یہ کہے کہ یہ باندی میری ہے اور اس کی وجہ بھی بتائے کہ میں نے اس کو خریدی ہے ، تو خریدنا مالک ہونے کا سبب بتایا اس لئے یہ ٫ املاک مقیدہ ، کہلائے گا  ۔
حکم : املاک مقیدہ ، کا حکم یہ ہے کہ چونکہ اس نے مالک ہونے کا سب بتایا ہے اور گواہ کے ذریعہ اس کو ثابت کیا ہے اس لئے مالک کے لئے ظاہرا اور باطنا حلال ہوگئے ، مثلا شوہر نے دعوی کیا کہ یہ میری بیوی ہے اور وجہ بھی بتائی کہ میں نے فلاں تاریخ میں نکاح کیا ہے تو یہ  بیوی شوہر کے لئے حلال ہوجائے گی ، اور پہلے نکاح نہ ہو ا تو اب قاضی کے فیصلے سے  نکاح ہوجائے گا ۔ اور ظاہرا اور باطنا ، یعنی عند اللہ بھی عورت حلال ہوجائے گی ، بشرطیکہ اس عورت سے نکاح کرنا حلال ہو ۔ 
املاک مرسلہ  :  قاضی کے سامنے مدعی دعوی کرے کہ یہ چیز میری ہے ، لیکن کس طرح یہ چیز اس کی ہے اس کی وجہ نہ بتائے تو اس کو٫ املاک مرسلہ ،  کہتے ہیں ، مثلا یہ دعوی کرے کہ یہ میری بیوی ہے ، لیکن کیسے بیوی بنی ، کب نکاح ہوا یہ نہ بتائے تو چونکہ اس نے مالک ہونے کی وجہ نہیں بتائی مطلق چھوڑ دی تو اس کو ٫ املاک مرسلہ ، کہتے ہیں ۔ 
املاک مرسلہ کا حکم : چونکہ مالک بننے کی وجہ نہیں بتائی ، اور گواہ حقیقت میں جھوٹی ہو تو ظاہری طور پر بیوی بن جائے گی ، لیکن باطنی طور پر بیوی نہیں بنے گی اس لئے بیوی کو چاہئے کہ وطی پر قدرت نہ دے ، اور شوہر کو چاہئے کہ اس سے وطی نہ کرے ۔ ۔ لیکن امام شافعی  کا قول یہی ہے کہ نہ ظاہرا نا فذ ہوگا، اور نہ باطنا نافذ ہوگا ۔ 
وجہ  :(١)  اس حدیث میں ہے کہ نافذ نہیں ہوگا اس لئے نہیں لینا چاہئے ۔ عن ام سلمة  ان رسول اللہ  ۖ قال انکم تختصمون الی  و لعل بعضکم  الحن  بحجتہ من بعض ، فمن قضیت لہ بحق اخیہ  شیئا بقولہ فانما اقطع لہ قطعة من النار  فلا یأخذھا ۔ ( بخاری شریف ، باب من اقام البینة بعد الیمین ، ص ٤٣٦، نمبر ٢٦٨٠) اس حدیث میں ہے کہ اگر غلط فیصلہ کر دیا تو لینے والے کو نہیں لینا چاہئے ۔(٢)  اس حدیث میں ہے کہ ظاہری طور پر چاہے تو لے لے ، لیکن باطنی طور پر نہ لے ۔ ان امہا ام سلمة  زوج النبی  ۖ .....انما انا بشر و انہ یأتینی الخصم فلعل بعضکم ان یکون ابلغ من بعض فاحسب انہ صدق فاقضی لہ بذالک فمن قضیت لہ بحق مسلم فانما ھی قطعة من النار فلیأخذھا  او لیترکھا ۔ ( بخاری شریف ، باب اثم من خاصم فی باطل و ھو یعلمہ ، ص ٣٩٦، نمبر ٢٤٥٨) اس حدیث میں ہے کہ چاہے تو لے لے ، جس سے استدلال کیا جا سکتا ہے ، کہ ظاہری طور پر حلال ہوگیا ، اور چا ہے تو چھوڑ دے 

Flag Counter