والمعتبر الاختلاف في الصدر الأول۔(۴۴۲)قال وکل شیء قضی بہ القاضي في الظاہر بتحریم فہو في الباطن کذلک عند أبي حنیفۃ رحمہ اللہ۱؎ وکذا إذا قضی بإحلال
نہیں ہوتی ، صرف اپنی سمجھ ہوتی ہے ، یا اپنے آپ کو بڑا بتلانا ہوتا ہے، یا اپنی پارٹی کی حمایت کرنا مقصود ہوتا ہے ، یہ نہیں ہوتا کہ اگر حق بات سامنے آجائے تو اس پر عمل کر لیا جائے گا ۔ بعض مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ اپنی رائے پر ضد کرنے کے لئے الٹی سیدھی دلیل کی تائید حاصل کر لیتے ہیں اور اس پر پوری ضد کرتے رہتے ہیں ، اسکو خلاف ، کہتے ہیں یہ بالکل اچھی چیز نہیں ہے
تشریح : صحابہ اور تابعین کے جمہور نے جس بات پر اتفاق کر لیا اس کو ٫اجماع، کہتے ہیں ، لیکن جمہور سے مراد صحابہ اور تابعین کا جمہور ہے ، اس کے بعد کے جمہور کے اتفاق کا اعتبار نہیں ہے ۔ اگر جمہور صحابہ ، یا جمہور تابعین نے کسی مسئلے پر اتفاق کر لیا ، لیکن کچھ تھوڑے سے لوگوں نے اس کا خلاف کیا تو اس کا اعتبار نہیں کیا جائے گا ، جمہور کے اتفاق کا ہی اعتبار ہوگا ۔
لغت : المعتبر الاختلاف فی الصدر الاول : سے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ شروع زمانہ ، یعنی صحابہ اور تابعین کے زمانے کے اختلاف کا اعتبار ہے ، بعد کے زمانے کے اختلاف کا اعتبار ہے ۔ کیونکہ بعد میں تو ہوس غالب ہوگئی ہے۔
وجہ :حدیث میں صدر اول کی تعریف کی ہے ۔عن عمران بن حصین یقول قال رسول اللہ ۖ خیر امتی قرنی ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھم ،قال عمران فلا ادری اذکر بعد قرنہ قرنین او ثلاثة ثم ان بعدکم قوما یشھدون و لا یستشھدون ، و یخونون ولا یؤتمنون ، و ینذرون و لا یفون و یظہر فیھم السمن ۔ ( بخاری شریف ، باب فضائل اصحاب النبی ۖ ، ص ٦١٢، نمبر ٣٦٥٠ابو داود شریف ، باب فضل اصحاب النبی ۖ ص ٦٥٨، نمبر ٤٦٥٧) اس حدیث میں صحابہ اور تابعین کے نیت طیبہ کی تعریف کی ہے بعد کی نہیں اس لئے انہیں کے اجماع کا اعتبار ہے ۔
ترجمہ : (٤٤٢) ہر وہ چیز جس کا قاضی نے ظاہر میں حرام ہونے کا فیصلہ کیا تو امام ابو حنیفہ کے نزدیک باطن میں بھی ویسے ہی ہوجائے گا ۔
ترجمہ : ١ ایسے ہی قاضی نے کسے چیز کے حلال ہونے کا فیصلہ کیا ] تو وہ حلال ہوجائے گی [
لغت : اس متن جو مسئلے ہیں وہ عبادات کے سلسلے میں نہیں ہے ، عبادات کے بارے میں قاضی کوئی فیصلہ شریعت کے خلاف کرے تو وہ کسی حال میں نافذ نہیں ہوگا ۔ یہاں جو مسئلے ہیں وہ عقود اور فسوخ ہیں ، یعنی جو چیزیں ایجاب اور قبول سے طے ہو جاتیں ہیںاور آدمی مالک بن جاتا ہے اس کے سلسلے میں فیصلے کے بارے میں ہے ، مثلا ]١[… نکاح ]٢[… طلاق ]٣[ … بیع ]٤[ … شراء سے ملکیت]٥[… ہبہ ]٦[… وراثت ، وغیرہ چیزیں جو ایجاب اور قبول سے وجود میں آجاتیں