عندہ وعلیہ الفتوی۳؎ ثم المجتہد فیہ أن لا یکون مخالفا لما ذکرنا۔ والمراد بالسنۃ المشہورۃ منہا۴؎ وفیما اجتمع علیہ الجمہور لا یعتبر مخالفۃ البعض وذلک خلاف ولیس باختلاف
اس کو نافذ بھی کیا جائے گا ۔ مثلا امام شافعی کے یہاں بغیر ولی کے عورت کا نکاح جائز نہیں ہے ، لیکن اس وقت لاکھوں عورتیں اپنی مرضی سے بغیر ولی کے نکاح کر رہی ہیں ، اس لئے اگر حنفیت کے مذہب پر فتوی دے دیا جائے تو چوں کے شدید مجبوری ہے اس لئے نکاح جائز ہوجائے گا ] یہ میری ناقص رائے ہے [
ترجمہ : ٢ صاحبین کے نزدیک دونوں صورتوں میں نافذ نہیں کیا جائے گا اس لئے کہ جو اس کے نزدیک غلط ہے اسی پر فیصلہ کیا ہے ۔ اور صاحبین کی رائے پر فتوی ہے ۔
تشریح : صاحبین کی رائے یہ ہے کہ چاہے بھول سے ہو چاہے جان کر فیصلہ کیا ہودونوں صورتوں میں نافذ نہیں کیا جائے گا کیونکہ صحیح معنی میں اس قاضی کے نزدیک غلط فیصلہ ہے ، اور اس کے مذہب کے خلاف فیصلہ ہے ، صاحب ہدایہ فرماتے ہیں کہ فتوی اسی پر ہے ۔
نوٹ : اوپر ذکر کیا جا چکا ہے کہ جہاں واقعی شدید مجبوری ہو اور دوسرے مذہب والے کے پاس شرعی دلائل ہوں ، جسکی بنیاد پر دوسرے مذہب پر جان کر فیصلہ کیا ہے تو اس کو نافذ کیا جائے گا ، کیونکہ انسانی دنیا کے لئے شدید مجبوری ہوگئی۔
ترجمہ : ٣ مجتہد فیہ مسئلہ اس کو کہتے ہیں کہ وہ اس کے مخالف نہ ہو جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ] یعنی قرآن کریم ، حدیث ، اور اجماع کے خلاف نہ ہو ۔ اور حدیث سے بھی مراد حدیث مشہورہ ہے ۔
تشریح : مجتہد فیہ مسئلہ کسکو کہتے ہیں اس کی تفسیر فرما رہے ہیں کہ ، جو مسئلہ آیت ، مشہور حدیث ، اور اجماع کے خلاف نہ ہو اس کو مسئلہ مجتہد فیہ ، کہتے ہیں ، اس کی ایک مثال دیتے ہیں کہ آیت میں ہے ۔و لا تنکحوا ما نکح آبائکم من النساء الا ما قد سلف ۔ ( آیت ٢٢، سورت ٤) اس آیت میں کہ تمہارے باپ نے جس عورت سے نکاح کیا ، جسکو تم سوتیلی ماں کہتے ہو اس سے نکاح مت کرو ، اس مسئلے پر سب اماموں کا اجماع ہے اس لئے یہ مسئلہ مجتہد فیہ کہلائے گا ۔
لغت : لما ذکرنا : سے مراد ، آیت ، حدیژ مشہورہ ، اور اجماع ہے ، کے اجتہاد اس کے خلاف نہ ہو ۔
ترجمہ : ٤ جس مسئلے پر جمہور کا اتفاق ہوگیا ہے اس میں بعض آدمی کی مخالفت کا اعتبار نہیں ہے ، بلکہ اس کو خلاف کہتے ہیں اختلاف نہیں کہتے ہیں ۔ اور صدر اول یعنی صحابہ اور تابعین کے زمانے کے اختلاف کا اعتبار ہے ۔
لغت : کسی مسئلے کے بارے میں اختلاف ہو اور دونوں کے پاس قرآن ، اور حدیث کی دلیل ہو تو اس کو اختلاف کہتے ہیں ، اس میں دونوں کے دلوں میں کینہ اور حسد نہیں ہوتا بلکہ شریعت پر عمل کرنے کا جذبہ دونوں میں ہوتا ہے۔ اور خلاف میں کوئی دلیل