Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 9

166 - 515
کاجتہاد الأول وقد یرجح الأول باتصال القضاء بہ فلا ینقض بما ہو دونہ۔(۴۴۱) ولو قضی في المجتہد فیہ مخالفا لرأیہ ناسیا لمذہبہ نفذ عند أبي حنیفۃ رحمہ اللہ وإن کان عامدا ففیہ روایتان ۱؎ ووجہ النفاذ أنہ لیس بخطأ بیقین۲؎  وعندہما لا ینفذ في الوجہین لأنہ قضی بما ہو خطأ 

جامع صغیر کی عبارت یہ ہے ۔و ما اختلف فیہ الفقہاء فقضی بہ القاضی ثم جاء قاض آخر یری غیر ذالک امضاہ ( جامع صغیر ، باب من القضاء ، ص ٣٩٩)  
تشریح  :  مثال کے طور پر ایک مسئلہ ہے جس  کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے اور دونوں کے پاس شرعی دلائل ہیں ، اب اس مسئلے میں ایک قاضی نے ایک طرف کا فیصلہ دے دیا ، پھر دوسرا قاضی آیا جسکی رائے اس کے خلاف تھی پھر بھی اس کو پہلا قضا نافذ کرنا پڑے گا ۔ 
وجہ: کیونکہ مسئلے میں دونوں طرف دلائل ہیں اور دونوں طرف فقہاء ہیں ، اور ایک طرف کے ساتھ قاضی کا فیصلہ ہوگیا ہے تو گویا کہ اس کی تائید ہوگئی اس لئے اب اسی کو نافذ کرنا پڑیگا ۔ لیکن اس میں شرط ہے کہ یہ فیصلہ قرآن اور حدیث کے خلاف نہ ہو ۔ 
ترجمہ  : ( ٤٤١) مجتہد فیہ مسئلے میں بھول کر اپنے مذہب کے خلاف ، تو امام ابو حنیفہ  کے نزدیک نافذ ہوجائے گا ۔ اور اگر جان کر فیصلہ دیا تو اس  بارے میں دو روایتیں ہیں ۔ 
ترجمہ  : ١  نافذ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اختلاف کی وجہ سے یقینی طور پر وہ غلط فیصلہ تو نہیں ہے ] اس لئے نافذ کردیا جائے [ 
لغت  : مجتہد فیہ : جس مسئلے میں فقہاء کا اختلاف ہو اور دونوں کے پاس شرعی دلائل ہوں ، اور وہ مسئلہ قرآن ، حدیث ، اور اجماع کے خلاف نہ ہو اس کو ٫مسئلہ مجتہد فیہ ، کہتے ہیں 
تشریح  : مسئلہ ایسا تھا جو مجتہد فیہ تھا ، یعنی بعض فقہاء کا اجتہاد کچھ اور تھا اور بعض دوسرے کا اس کے مخالف تھا ، قاضی نے  بھول کر اپنے  مذہب کے خلاف فیصلہ دے دیا تو امام ابو حنیفہ  کے نزدیک یہ فیصلہ نافذ ہوجائے گا ۔
وجہ : اس کی وجہ یہ فر ماتے ہیں کہ دوسری طرف بھی دلیل شرعی ہے اس لئے وہ مذہب کوئی یقینی طور پر غلط نہیں ہے اس لئے اگر اس کے مطابق فیصلہ کر دیا تو قضا کی تائید کی وجہ سے نافذ ہوجائے گی ۔   
اور جان کر اپنے مذہب کے خلاف فیصلہ کیا توصحیح بات یہ ہے کہ خود قاضی کا دل اس فیصلے کو نہیں مان رہا ہے ، اور جب اس کا ہی دل مطمئن نہیں ہے  تو فیصلہ نافذ کیسے کیا جائے ۔ اور دوسری روایت یہ ہے کہ اس فیصلے کو نافذ کر دیا جائے کیونکہ دو دوسرے مذہب والے کے پاس بھی دلیل ہے ، اس لئے چاہے دل نہ مانے لیکن اس کے ساتھ قضا ہوچکا ہے اس لئے نافذ کردیا جائے گا  
نوٹ  : اگر دوسرے مذہب پر فتوی دینے کی شدید مجبوری  ہو اور اس کے پاس احادیث بھی ہوں تو فتوی دینا جائز بھی ہے اور 

Flag Counter