Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 9

165 - 515
۱؎ وفي الجامع الصغیر وما اختلف فیہ الفقہاء فقضی بہ القاضي ثم جاء قاض آخر یری غیر ذلک أمضاہ والأصل أن القضاء متی لاقی فصلا مجتہدا فیہ ینفذہ ولا یردہ غیرہ لأن اجتہاد الثاني  

معلوم ہوا کہ خلاف شریعت نہ ہو تو ماقبل قاضی کے فیصلے کو رد نہیں کرنا چاہئے۔
اور قرآن ، حدیث یا اجماع کے خلاف ہوتو اس کو رد کردے گا۔
وجہ :(١) حدیث میں ہے۔ عن عائشة قالت قال رسول اللہ ۖ من احدث فی امرنا ھذا مالیس فیہ فھورد ۔ (بخاری شریف، باب اذا اصطلحوا علی صلح جور فالصلح مردود، ص٤٤٠، نمبر ٢٦٩٧ ابو داؤد شریف، باب فی لزوم السنة ، ص ٦٥١، نمبر ٤٦٠٦) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شریعت میں نہ ہو تو مردود ہے ۔ اسی باب میں ایک دیہاتی کے بیٹے کے زنا کا واقعہ ہے۔ لوگوں نے ان کے لئے رجم کا فیصلہ کیا تو آپۖ نے اس کو رد فرمایا اور فرمایا کہ تمہارے بیٹے پر سو کوڑے ہیںکیونکہ وہ محصن نہیں ہے ۔جاء اعرابی فقال......انما علی ابنک جلد مائة و تعریب عام فقال النبی  ۖ لاقضین بینکما بکتاب اللہ اما الولیدة و الغنم فرد علیک  وعلیابنک جلد مائة و تغریب عام (بخاری شریف ، باب اذا اصطلحوا علی صلح جور فالصلح مردود ، ص ٤٤٠، نمبر٢٦٩٥) اس حدیث میں ہے کہ اگر حدیث کے خلاف فیصلہ کیا گیا ہو تو اس کو رد کیا جا سکتا ہے۔(٣) حدیث میں ہے کہ حضرت خالد نے قیدیوں کے سلسلے میں قتل کا فیصلہ فرمایا جو شریعت کے خلاف تھا تو حضورۖ نے اس کو رد فرمایا اور اس سے براء ت ظاہر کی۔حدیث کا ٹکڑا یہ ہے۔ عن ابن عمر بعث النبی ۖ خالدا ... فذکر نا ذلک للنبی ۖ فقال اللھم انی ابراء الیک مما صنع خالد بن الولید مرتین (بخاری شریف، باب اذا قضی الحاکم بجور او خلاف اہل العلم فھو رد ، ص١٢٣٨، نمبر ٧١٨٩) اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ خلاف شریعت فیصلہ ہوتو اس کو رد کیا جائے گا اور نافذ نہیں کیا جائے گا (٤) اس قول تابعی میں اس کی صراحت ہے۔ عن الثوری قال اذا قضی القاضی بخلاف کتاب اللہ او سنة نبی اللہ او شیء مجتمع علیہ ،فان القاضی بعدہ یردہ ، فان کان شیئا برای الناس لم یردہ ویحمل ذلک ما تحمل (مصنف عبد الرزاق ، باب ھل یرد قضاء القاضی او یرجع عن قضائہ ، ج ثامن ، ص ٢٣٤، نمبر ١٥٣٧٧) اس اثر سے بھی معلوم ہوا کہ شریعت کے خلاف ہوتو رد کردیا جائے گا۔
ترجمہ  : ١  جامع صغیر میں یہ ہے کہ جس مسئلے میں فقہاء کا اختلاف ہے ، اور قاضی نے ایک کے مطابق فیصلہ کردیا ، پھر دوسرا قاضی آیا تو وہ پہلے فیصلے کو ہی نافذ کردے گا ، اور اس میں قاعدہ یہ ہے کہ مجتہد فیہ مسئلے میں قضا ساتھ ہوگیا تو نافذ کردیا جائے گا ، اس لئے کہ دوسرے قاضی کا اجتہاد درجے میں پہلے قاضی کی طرح ہے اور پہلے حکم کو قضا کے ساتھ متصل ہونے  کی وجہ سے ترجیح ہوگئی ، اس لئے بعد والا فیصلہ جو کمزور ہے اس کو توڑے گا نہیں ۔  

Flag Counter