Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2012

اكستان

37 - 65
کے برتن نہیں ٹوٹے، تم اِن حالات میں بدعت اَور گمراہی کا دَروازہ کھولتے ہو۔''
ایک دُوسری روایت میں حضرت عبد اللہ بن مسعود   کا جواب اِن الفاظ میں منقول ہے کہ  :''میں عبد اللہ بن مسعود ہوں، خدائے وحدہ لاشریک لہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تم نے نہایت تاریک اَور سیاہ بدعت اِیجاد کی ہے یا پھر تم علم میں جناب نبی کریم  ۖ کے صحابہ سے بڑھ گئے ہو۔'' (مجالس الابرار  ص ١٦٥)
(٣)  حضرت عثمان بن اَبی العاص رضی اللہ عنہ کو کسی ختنے کی دعوت میں شرکت کے لیے کہا گیا تو اُنہوں نے جانے سے اِنکار کر دیا، جب اِنکار کی وجہ دریافت کی گئی تو فرمایا  :
اِنَّا کُنَّا لَا نَأْتِی الْخِتَانَ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَلَا نُدْعٰی لَہ ۔ (مُسند اَحمد بن حنبل  ج ٤  ص ٢١٧)
''ہم لوگ زمانۂ رسالت مآب  ۖ  میں ختنوں میں نہیں جایا کرتے تھے اَور نہ اِس کے لیے دعوت دی جاتی تھی۔''اِن تمام شواہد کے پیش کرنے کا مقصد صرف یہ ظاہر کرنا ہے کہ عبادات میں قیاس اَور رائے  کو کوئی دخل نہیں۔ جہاں حضور  ۖ  کا عمل ثابت ہے وہاں عمل کرنا ضروری ہے اَور جہاں عمل ثابت نہیں وہاں ترکِ عمل میں حضور  ۖ  کی اِتباع ضروری ہے۔ جیسا کہ مُلا علی قاری الحنفی رحمة اللہ علیہ اِرشاد فرماتے ہیں  :وَالْمُتَابَعَةُ کَمَا تَکُوْنُ فِی الْفِعْلِ تَکُوْنُ فِی التَّرْکِ اَیْضًا فَمَنْ وَّاظَبَ عَلٰی فِعْلٍ لَّمْ یَفْعَلْہُ الشَّارِعُ فَھُوَ مُبْتَدِع ۔(مرقاة  شرح مشکوٰة ج١ ص ٤١)
''حضور  ۖ  کی متابعت جیسے فعل میں ہوتی ہے اِسی طرح ترکِ فعل میں بھی ہوتی ہے۔ تو جو شخص کسی ایسے کام پر مداومت (ہمیشگی) کرے جو حضور  ۖ نے نہیں کیا تو وہ بدعتی ہے۔'' (جاری ہے)  
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف اول 4 1
3 درس حديث 6 1
4 اِنسان جیسے' شعور' کے بوجھ سے سب نے اِنکار کر دیا : 8 3
5 عالمی گھڑیاں خدائی نظام کے تابع ہیں : 9 3
6 آخرت میں اللہ کا دیدار نصیب ہوگا : 10 3
7 نبیوں کو ایک دُوسرے پر فضیلت نہ دینے کی حکمت : 10 3
8 ''شریعت'' و'' طریقت'' کا فرق : 14 3
9 طریقت کا کچھ اَور مطلب لینا گمراہی ہے : 15 3
10 ''نسبت'' کیا ہے : 15 3
11 بہت ریاضت کے بعد'' نسبت'' کا حصول ہوتا ہے : 15 3
12 علمی مضامین سلسلہ نمبر ٥١ 17 1
13 عالمی اَورملکی حالات پر دُور اَندیش تبصرہ 17 1
14 ٭ میں نے کہا : قرآنِ پاک میں ہے : 20 13
15 اَنفَاسِ قدسیہ 23 1
16 قطب ِ عالم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمدصاحب مدنی کی خصوصیات 23 15
17 بشارت اَور رُویائے صالحہ : 23 15
18 پردہ کے اَحکام 29 1
19 زِنا اَور لواطت کے حرام ہونے کی وجہ : 29 18
20 لواطت کی حرمت : 30 18
21 پردہ میں بھی بدکاری ہوجانے کی حقیقت : 30 18
22 عورتوں کو پردہ میں رکھنے کی ایک اَور شرعی دَلیل : 31 18
23 عورت کو اَپنے چہرہ کا پردہ کرنا بھی ضروری ہے نیز'' ستر'' اَور'' پردہ'' کا فرق : 32 18
24 مروجہ محفل ِمیلاد 33 1
25 بریلوی حضرات کی قیاس آرائی کا جواب : 33 24
26 قسط : ٤سیرت خلفائے راشدین 39 1
28 اِسلامی صکوک (SUKUK) : تعارف اَورتحفظات 43 1
29 صکوک سے کیا مراد ہے ؟ 44 28
30 مالی دَستاویز کی یہ تعریف 44 28
31 عالمی مجمع فقہ اِسلامی نے صکوک ِمضاربت کی یہ تعریف کی : 45 28
32 مجلس خدمات ِمالیہ اِسلامیہ نے صکوک کی یہ تعریف کی : 46 28
33 (١) صکوک کے موجودات : 46 28
34 (٢) صکوک کے عقود : 46 28
35 (٣) صکوک کا اِصدار : 46 28
36 (٤) حاملینِ صکوک : 46 28
37 (٥) تصفیہ اَور اِطفائے صکوک : 46 28
38 (٦) صکوک کا تداول : 47 28
39 (٧) اِسترداد ِصکوک : 47 28
40 (٨) تصنیف ائتمانی (Credit Rating) : 47 28
41 (٩) سندات و صکوک کے فروخت کرنے کے بازار : 47 28
42 (i) اِبتدائی بازار (Primary Market) : 47 28
43 (ii) ثانوی بازار (Secondary Market) : 47 28
44 صکوک سازی اَور صکوک کی کچھ مزید تفصیل 47 28
45 (١) بِلا واسطہ مالی اَوراق سازی : 48 28
46 (٢) بواسطہ اَثاثہ اَوراق سازی یا صکوک سازی یا تصکیک : 48 28
47 صکوک کی ضرورت اَور فائدے 49 28
48 عربی زبان کی خصوصیات و اِمتیازات 54 1
49 عالمی زبان : 55 48
50 ضرورت کا اِحساس : 56 48
51 مصنوعی زبانیں : 58 48
52 بنیادی اَنگریزی : 61 48
53 اَخبار الجامعہ 63 1
54 وفیات 64 1
Flag Counter