ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2012 |
اكستان |
|
کے برتن نہیں ٹوٹے، تم اِن حالات میں بدعت اَور گمراہی کا دَروازہ کھولتے ہو۔'' ایک دُوسری روایت میں حضرت عبد اللہ بن مسعود کا جواب اِن الفاظ میں منقول ہے کہ :''میں عبد اللہ بن مسعود ہوں، خدائے وحدہ لاشریک لہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تم نے نہایت تاریک اَور سیاہ بدعت اِیجاد کی ہے یا پھر تم علم میں جناب نبی کریم ۖ کے صحابہ سے بڑھ گئے ہو۔'' (مجالس الابرار ص ١٦٥) (٣) حضرت عثمان بن اَبی العاص رضی اللہ عنہ کو کسی ختنے کی دعوت میں شرکت کے لیے کہا گیا تو اُنہوں نے جانے سے اِنکار کر دیا، جب اِنکار کی وجہ دریافت کی گئی تو فرمایا : اِنَّا کُنَّا لَا نَأْتِی الْخِتَانَ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَلَا نُدْعٰی لَہ ۔ (مُسند اَحمد بن حنبل ج ٤ ص ٢١٧) ''ہم لوگ زمانۂ رسالت مآب ۖ میں ختنوں میں نہیں جایا کرتے تھے اَور نہ اِس کے لیے دعوت دی جاتی تھی۔''اِن تمام شواہد کے پیش کرنے کا مقصد صرف یہ ظاہر کرنا ہے کہ عبادات میں قیاس اَور رائے کو کوئی دخل نہیں۔ جہاں حضور ۖ کا عمل ثابت ہے وہاں عمل کرنا ضروری ہے اَور جہاں عمل ثابت نہیں وہاں ترکِ عمل میں حضور ۖ کی اِتباع ضروری ہے۔ جیسا کہ مُلا علی قاری الحنفی رحمة اللہ علیہ اِرشاد فرماتے ہیں :وَالْمُتَابَعَةُ کَمَا تَکُوْنُ فِی الْفِعْلِ تَکُوْنُ فِی التَّرْکِ اَیْضًا فَمَنْ وَّاظَبَ عَلٰی فِعْلٍ لَّمْ یَفْعَلْہُ الشَّارِعُ فَھُوَ مُبْتَدِع ۔(مرقاة شرح مشکوٰة ج١ ص ٤١) ''حضور ۖ کی متابعت جیسے فعل میں ہوتی ہے اِسی طرح ترکِ فعل میں بھی ہوتی ہے۔ تو جو شخص کسی ایسے کام پر مداومت (ہمیشگی) کرے جو حضور ۖ نے نہیں کیا تو وہ بدعتی ہے۔'' (جاری ہے)