ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2012 |
اكستان |
|
کو پارسا رکھیں یعنی پارسا رکھنا اِن کے ذمہ (واجب ) ہے ۔معلوم ہوا کہ اَکیلی عورت کافی نہیں جب تک مرد اِس کو محفوظ نہ رکھے۔ اِسم ِ فاعل کے صیغہ سے یہ بات حاصل نہ ہوتی اِس لیے اِسم ِ مفعول کا صیغہ لائے۔ ( اَلعاقلات الغافلات ص٣٥٠) عورت کو اَپنے چہرہ کا پردہ کرنا بھی ضروری ہے نیز'' ستر'' اَور'' پردہ'' کا فرق : حضرات ِفقہاء نے عورت کے چہرہ اَور ہاتھ کی ہتھیلیوں کو ستر سے مستثنیٰ فرمایا ہے اِس کا مطلب یہ ہے کہ نماز میں یہ چیزیں کھلی رہیں تو نماز ہو جائے گی اِس میں خلل نہ آئے گا اِس میں فقہاء نے قدموں کا بھی یہی حکم بتلایا ہے اِس کے علاوہ عورت کا سارا بدن ستر میں داخل ہے اِس میں سے کوئی عضو نماز میں کھلا رہا تو نماز نہ ہو گی، یہ مسئلہ تو ستر پوشی کا ہے۔ اَور غیر محرموں سے عورت کا پردہ یہ اَلگ مسئلہ ہے اِس کا مدار فتنہ کے اَندیشہ پر ہے اَور ظاہر ہے کہ عورت کا چہرہ اُس کے بدن کا ممتاز حصہ ہے اِس کے غیر محرموں کے سامنے کھولنے میں بڑا فتنہ ہے۔ اِسی لیے حضراتِ فقہاء نے غیر محرم مردوں کے سامنے عورت کو چہرہ کھولنے کی اِجازت نہیں دی۔ ( مجالس ِحکیم الامت ص١٢٦) ۔(جاری ہے) ماہنامہ اَنوار مدینہ لاہور میں اِشتہار دے کر آپ اَپنے کاروبار کی تشہیر اَور دینی اِدارہ کا تعاون ایک ساتھ کر سکتے ہیں ! نرخ نامہ بیرون ٹائٹل مکمل صفحہ2000اَندرون رسالہ مکمل صفحہ1000اَندرون ٹائٹل مکمل صفحہ1500اَندرون رسالہ نصف صفحہ500