Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2012

اكستان

36 - 65
عَنْ نَّافِعٍ اَنَّ رَجُلاً عَطَسَ اِلٰی جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ فَقَالَ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ قَالَ ابْنُ عُمَرَ وَاَنَا اَقُوْلُ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ وَلَیْسَ ھٰکَذَا ، عَلَّمَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ۖ اَنْ نَّقُوْلَ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی کُلِّ حَالٍ ۔ (مشکوٰة ج ٢  ص ٤٠٦ ، ترمذی ج ٢  ص ٩٨)
''حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص کو چھینک آئی اَور اُس نے کہا ''اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ'' اِس پر حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں بھی اِس کا قائل ہوں کہ حضور پر سلام ہو لیکن حضور  ۖ کی تعلیم یہ نہیں ہے، حضور اَکرم  ۖ کی تعلیم یہ ہے کہ چھینک آنے پر ہم ''اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی کُلِّ حَالٍ'' کہا کریں۔''
 حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا گزر ایک مسجد میں ایک ایسی جماعت پر ہوا جو بیٹھی  ہوئی ذکر کر رہی تھی اُن میں سے ایک شخص کہتا تھا کہ ''سو مرتبہ  اَللّٰہُ اَکْبَرْ  پڑھو'' تو حلقہ نشین کنکریوں پر سو مرتبہ  اَللّٰہُ اَکْبَرْ  پڑھتے پھر وہ شخص کہتا ''سو بار لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ پڑھو'' تو وہ لوگ سو بار لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ پڑھتے پھر وہ شخص کہتا ''سو دفعہ  سُبْحَانَ اللّٰہْ  پڑھو'' تو وہ لوگ سو دفعہ  سُبْحَانَ اللّٰہْ  پڑھتے۔
 حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ معلوم کرکے اِرشاد فرمایا  :فَعُدُّوْا مِنْ سَیِّاٰتِکُمْ فَاِنَّا ضَامِن اَنْ لَّایُضِیْعَ مِنْ حَسَنَاتِکُمْ شَیْئ وَیُحَکُمُ یَا اُمَّةَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا اَسْرَعَ ھَلکَتُکُمْ ھٰؤُلاَئِ صَحَابَة بَیْنَکُمْ مُّتَوَافِرُوْنَ وَھٰذَا ثِیَابُہ لَمْ تَبْلَ وَ آنِیَتُہ لَمْ  تَکْسُرْ ...... اَوَ مُفَتِّحِیْ بَابَ ضَلَالَةٍ ۔( مُسندِ دارمی ج١ص٦٨ )
''تم اِن کنکریوں پر اپنے گناہ شمار کرو۔ تعجب ہے تم پر اے اُمت ِمحمد! کیا اِتنی جلدی ہلاکت میں پڑگئے ہو ؟ اَبھی تک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تم میں بکثرت موجود اَور  اَبھی تک جناب ِرسول اللہ  ۖ کے کپڑے پرانے نہیں ہوئے اَور اَبھی تک آپ
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف اول 4 1
3 درس حديث 6 1
4 اِنسان جیسے' شعور' کے بوجھ سے سب نے اِنکار کر دیا : 8 3
5 عالمی گھڑیاں خدائی نظام کے تابع ہیں : 9 3
6 آخرت میں اللہ کا دیدار نصیب ہوگا : 10 3
7 نبیوں کو ایک دُوسرے پر فضیلت نہ دینے کی حکمت : 10 3
8 ''شریعت'' و'' طریقت'' کا فرق : 14 3
9 طریقت کا کچھ اَور مطلب لینا گمراہی ہے : 15 3
10 ''نسبت'' کیا ہے : 15 3
11 بہت ریاضت کے بعد'' نسبت'' کا حصول ہوتا ہے : 15 3
12 علمی مضامین سلسلہ نمبر ٥١ 17 1
13 عالمی اَورملکی حالات پر دُور اَندیش تبصرہ 17 1
14 ٭ میں نے کہا : قرآنِ پاک میں ہے : 20 13
15 اَنفَاسِ قدسیہ 23 1
16 قطب ِ عالم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمدصاحب مدنی کی خصوصیات 23 15
17 بشارت اَور رُویائے صالحہ : 23 15
18 پردہ کے اَحکام 29 1
19 زِنا اَور لواطت کے حرام ہونے کی وجہ : 29 18
20 لواطت کی حرمت : 30 18
21 پردہ میں بھی بدکاری ہوجانے کی حقیقت : 30 18
22 عورتوں کو پردہ میں رکھنے کی ایک اَور شرعی دَلیل : 31 18
23 عورت کو اَپنے چہرہ کا پردہ کرنا بھی ضروری ہے نیز'' ستر'' اَور'' پردہ'' کا فرق : 32 18
24 مروجہ محفل ِمیلاد 33 1
25 بریلوی حضرات کی قیاس آرائی کا جواب : 33 24
26 قسط : ٤سیرت خلفائے راشدین 39 1
28 اِسلامی صکوک (SUKUK) : تعارف اَورتحفظات 43 1
29 صکوک سے کیا مراد ہے ؟ 44 28
30 مالی دَستاویز کی یہ تعریف 44 28
31 عالمی مجمع فقہ اِسلامی نے صکوک ِمضاربت کی یہ تعریف کی : 45 28
32 مجلس خدمات ِمالیہ اِسلامیہ نے صکوک کی یہ تعریف کی : 46 28
33 (١) صکوک کے موجودات : 46 28
34 (٢) صکوک کے عقود : 46 28
35 (٣) صکوک کا اِصدار : 46 28
36 (٤) حاملینِ صکوک : 46 28
37 (٥) تصفیہ اَور اِطفائے صکوک : 46 28
38 (٦) صکوک کا تداول : 47 28
39 (٧) اِسترداد ِصکوک : 47 28
40 (٨) تصنیف ائتمانی (Credit Rating) : 47 28
41 (٩) سندات و صکوک کے فروخت کرنے کے بازار : 47 28
42 (i) اِبتدائی بازار (Primary Market) : 47 28
43 (ii) ثانوی بازار (Secondary Market) : 47 28
44 صکوک سازی اَور صکوک کی کچھ مزید تفصیل 47 28
45 (١) بِلا واسطہ مالی اَوراق سازی : 48 28
46 (٢) بواسطہ اَثاثہ اَوراق سازی یا صکوک سازی یا تصکیک : 48 28
47 صکوک کی ضرورت اَور فائدے 49 28
48 عربی زبان کی خصوصیات و اِمتیازات 54 1
49 عالمی زبان : 55 48
50 ضرورت کا اِحساس : 56 48
51 مصنوعی زبانیں : 58 48
52 بنیادی اَنگریزی : 61 48
53 اَخبار الجامعہ 63 1
54 وفیات 64 1
Flag Counter