ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2012 |
اكستان |
|
عَنْ نَّافِعٍ اَنَّ رَجُلاً عَطَسَ اِلٰی جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ فَقَالَ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ قَالَ ابْنُ عُمَرَ وَاَنَا اَقُوْلُ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ وَلَیْسَ ھٰکَذَا ، عَلَّمَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ۖ اَنْ نَّقُوْلَ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی کُلِّ حَالٍ ۔ (مشکوٰة ج ٢ ص ٤٠٦ ، ترمذی ج ٢ ص ٩٨) ''حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص کو چھینک آئی اَور اُس نے کہا ''اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ'' اِس پر حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں بھی اِس کا قائل ہوں کہ حضور پر سلام ہو لیکن حضور ۖ کی تعلیم یہ نہیں ہے، حضور اَکرم ۖ کی تعلیم یہ ہے کہ چھینک آنے پر ہم ''اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی کُلِّ حَالٍ'' کہا کریں۔'' حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا گزر ایک مسجد میں ایک ایسی جماعت پر ہوا جو بیٹھی ہوئی ذکر کر رہی تھی اُن میں سے ایک شخص کہتا تھا کہ ''سو مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَرْ پڑھو'' تو حلقہ نشین کنکریوں پر سو مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَرْ پڑھتے پھر وہ شخص کہتا ''سو بار لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ پڑھو'' تو وہ لوگ سو بار لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ پڑھتے پھر وہ شخص کہتا ''سو دفعہ سُبْحَانَ اللّٰہْ پڑھو'' تو وہ لوگ سو دفعہ سُبْحَانَ اللّٰہْ پڑھتے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ معلوم کرکے اِرشاد فرمایا :فَعُدُّوْا مِنْ سَیِّاٰتِکُمْ فَاِنَّا ضَامِن اَنْ لَّایُضِیْعَ مِنْ حَسَنَاتِکُمْ شَیْئ وَیُحَکُمُ یَا اُمَّةَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا اَسْرَعَ ھَلکَتُکُمْ ھٰؤُلاَئِ صَحَابَة بَیْنَکُمْ مُّتَوَافِرُوْنَ وَھٰذَا ثِیَابُہ لَمْ تَبْلَ وَ آنِیَتُہ لَمْ تَکْسُرْ ...... اَوَ مُفَتِّحِیْ بَابَ ضَلَالَةٍ ۔( مُسندِ دارمی ج١ص٦٨ ) ''تم اِن کنکریوں پر اپنے گناہ شمار کرو۔ تعجب ہے تم پر اے اُمت ِمحمد! کیا اِتنی جلدی ہلاکت میں پڑگئے ہو ؟ اَبھی تک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تم میں بکثرت موجود اَور اَبھی تک جناب ِرسول اللہ ۖ کے کپڑے پرانے نہیں ہوئے اَور اَبھی تک آپ