ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2012 |
اكستان |
|
''نمازِ عید سے پہلے عید گاہ میں نفل نماز پڑھنا مکروہ ہے کیونکہ حضور ۖ نے باوجود نماز کا اِنتہائی شائق ہونے کے نوافل عید سے قبل نہیں پڑھے ہیں۔'' (٣) اِسی طرح رجب المرجب کے مہینہ میں ایک نماز پڑھنا لوگوں میں رائج تھا جسے ''صَلَاةُ الرَّغَائِبِ''کہا جاتا تھا۔ فقہائِ کرام نے اِس کو بدعت قرار دیا ہے اَور اِس کی وجہ علامہ اِبراہیم حلبی جو ایک بہت بڑے فقیہ ہیں، یہ بیان فرماتے ہیں :اِنَّ الصَّحَابَةَ وَالتَّابِعِیْنَ وَمَنْ بَعْدَھُمْ مِّنَ الْاَئِمَّةِ الْمُجْتَھِدِیْنَ لَمْ یُنْقَلْ عَنْھُمْ ھَاتَانِ الصَّلَا تَانِ ۔( کبیری ص ٤٣٣)''صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اَور تابعین اَور بعد کے ائمہ مجتہدین سے (یہ نماز) منقول نہیں ہے۔'' (٤) اِسی طرح فتاویٰ عالمگیریہ جس کے مُلک میں نفاذ کا آئے دِن بریلوی حضرات مطالبہ کرتے ہیں خاص طور سے ''سنی کانفرنس ملتان'' میں اِجتماعی طور پر بریلویوں نے فتاویٰ عالمگیریہ کو مُلک میں نافذ کرنے کا مطالبہ کیا تھا اُس میں اِس قسم کی بے شمار مثالیں درج ہیں۔ مثال کے طور پر ہم یہاں صرف ایک مثال بیان کرتے ہیں اَور وہ یہ ہے کہ کسی زمانہ میں یہ رواج تھا کہ سورۂ کافرون سے لے کر آخر تک اَکٹھے جمع ہو کر پڑھتے تھے جیسا کہ آج کل ختم وغیرہ کے موقع پر کچھ مخصوص سورتوں کے پڑھنے کا رواج ہے۔ فتاویٰ عالمگیریہ میں اِس عمل کو بدعت قرار دیا ہے اَور لکھا ہے :قِرَائَ ةُ الْکَافِرُوْنَ اِلَی الْاٰخَرِ مَعَ الْجَمْعِ مَکْرُوْھَةً لِاَنَّھَا بِدْعَة لَمْ تُنْقَلْ عَنِ الصَّحَابَةِ وَلَا عَنِ التَّابِعِیْنَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ ۔ ١''سورۂ کافرون سے آخر تک جماعت کے ساتھ مل کر پڑھنا مکروہ ہے کیونکہ یہ بدعت ہے ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اَور تابعین سے منقول نہیں ہے۔'' اِس قسم کی مثالیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بھی منقول ہیں : ١ فتاویٰ عالمگیری جلد ٥ ص ٣١٧۔