Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2012

اكستان

35 - 65
 ''نمازِ عید سے پہلے عید گاہ میں نفل نماز پڑھنا مکروہ ہے کیونکہ حضور  ۖ نے باوجود نماز کا اِنتہائی شائق ہونے کے نوافل عید سے قبل نہیں پڑھے ہیں۔''
(٣) اِسی طرح رجب المرجب کے مہینہ میں ایک نماز پڑھنا لوگوں میں رائج تھا جسے ''صَلَاةُ الرَّغَائِبِ''کہا جاتا تھا۔ فقہائِ کرام نے اِس کو بدعت قرار دیا ہے اَور اِس کی وجہ علامہ اِبراہیم حلبی  جو ایک بہت بڑے فقیہ ہیں، یہ بیان فرماتے ہیں  :اِنَّ الصَّحَابَةَ وَالتَّابِعِیْنَ وَمَنْ بَعْدَھُمْ مِّنَ الْاَئِمَّةِ الْمُجْتَھِدِیْنَ لَمْ یُنْقَلْ عَنْھُمْ ھَاتَانِ الصَّلَا تَانِ ۔( کبیری ص ٤٣٣)''صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اَور تابعین اَور بعد کے ائمہ مجتہدین سے (یہ نماز) منقول نہیں ہے۔''
(٤)  اِسی طرح فتاویٰ عالمگیریہ جس کے مُلک میں نفاذ کا آئے دِن بریلوی حضرات مطالبہ کرتے ہیں خاص طور سے ''سنی کانفرنس ملتان'' میں اِجتماعی طور پر بریلویوں نے فتاویٰ عالمگیریہ کو  مُلک میں نافذ کرنے کا مطالبہ کیا تھا اُس میں اِس قسم کی بے شمار مثالیں درج ہیں۔ مثال کے طور پر ہم یہاں صرف ایک مثال بیان کرتے ہیں اَور وہ یہ ہے کہ کسی زمانہ میں یہ رواج تھا کہ سورۂ کافرون سے لے کر آخر تک اَکٹھے جمع ہو کر پڑھتے تھے جیسا کہ آج کل ختم وغیرہ کے موقع پر کچھ مخصوص سورتوں کے پڑھنے کا رواج ہے۔ فتاویٰ عالمگیریہ میں اِس عمل کو بدعت قرار دیا ہے اَور لکھا ہے  :قِرَائَ ةُ الْکَافِرُوْنَ اِلَی الْاٰخَرِ مَعَ الْجَمْعِ مَکْرُوْھَةً لِاَنَّھَا بِدْعَة لَمْ تُنْقَلْ عَنِ الصَّحَابَةِ وَلَا عَنِ التَّابِعِیْنَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ ۔   ١''سورۂ کافرون سے آخر تک جماعت کے ساتھ مل کر پڑھنا مکروہ ہے کیونکہ یہ بدعت ہے ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اَور تابعین سے منقول نہیں ہے۔''
اِس قسم کی مثالیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بھی منقول ہیں  :   ١   فتاویٰ عالمگیری  جلد ٥  ص ٣١٧۔
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف اول 4 1
3 درس حديث 6 1
4 اِنسان جیسے' شعور' کے بوجھ سے سب نے اِنکار کر دیا : 8 3
5 عالمی گھڑیاں خدائی نظام کے تابع ہیں : 9 3
6 آخرت میں اللہ کا دیدار نصیب ہوگا : 10 3
7 نبیوں کو ایک دُوسرے پر فضیلت نہ دینے کی حکمت : 10 3
8 ''شریعت'' و'' طریقت'' کا فرق : 14 3
9 طریقت کا کچھ اَور مطلب لینا گمراہی ہے : 15 3
10 ''نسبت'' کیا ہے : 15 3
11 بہت ریاضت کے بعد'' نسبت'' کا حصول ہوتا ہے : 15 3
12 علمی مضامین سلسلہ نمبر ٥١ 17 1
13 عالمی اَورملکی حالات پر دُور اَندیش تبصرہ 17 1
14 ٭ میں نے کہا : قرآنِ پاک میں ہے : 20 13
15 اَنفَاسِ قدسیہ 23 1
16 قطب ِ عالم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمدصاحب مدنی کی خصوصیات 23 15
17 بشارت اَور رُویائے صالحہ : 23 15
18 پردہ کے اَحکام 29 1
19 زِنا اَور لواطت کے حرام ہونے کی وجہ : 29 18
20 لواطت کی حرمت : 30 18
21 پردہ میں بھی بدکاری ہوجانے کی حقیقت : 30 18
22 عورتوں کو پردہ میں رکھنے کی ایک اَور شرعی دَلیل : 31 18
23 عورت کو اَپنے چہرہ کا پردہ کرنا بھی ضروری ہے نیز'' ستر'' اَور'' پردہ'' کا فرق : 32 18
24 مروجہ محفل ِمیلاد 33 1
25 بریلوی حضرات کی قیاس آرائی کا جواب : 33 24
26 قسط : ٤سیرت خلفائے راشدین 39 1
28 اِسلامی صکوک (SUKUK) : تعارف اَورتحفظات 43 1
29 صکوک سے کیا مراد ہے ؟ 44 28
30 مالی دَستاویز کی یہ تعریف 44 28
31 عالمی مجمع فقہ اِسلامی نے صکوک ِمضاربت کی یہ تعریف کی : 45 28
32 مجلس خدمات ِمالیہ اِسلامیہ نے صکوک کی یہ تعریف کی : 46 28
33 (١) صکوک کے موجودات : 46 28
34 (٢) صکوک کے عقود : 46 28
35 (٣) صکوک کا اِصدار : 46 28
36 (٤) حاملینِ صکوک : 46 28
37 (٥) تصفیہ اَور اِطفائے صکوک : 46 28
38 (٦) صکوک کا تداول : 47 28
39 (٧) اِسترداد ِصکوک : 47 28
40 (٨) تصنیف ائتمانی (Credit Rating) : 47 28
41 (٩) سندات و صکوک کے فروخت کرنے کے بازار : 47 28
42 (i) اِبتدائی بازار (Primary Market) : 47 28
43 (ii) ثانوی بازار (Secondary Market) : 47 28
44 صکوک سازی اَور صکوک کی کچھ مزید تفصیل 47 28
45 (١) بِلا واسطہ مالی اَوراق سازی : 48 28
46 (٢) بواسطہ اَثاثہ اَوراق سازی یا صکوک سازی یا تصکیک : 48 28
47 صکوک کی ضرورت اَور فائدے 49 28
48 عربی زبان کی خصوصیات و اِمتیازات 54 1
49 عالمی زبان : 55 48
50 ضرورت کا اِحساس : 56 48
51 مصنوعی زبانیں : 58 48
52 بنیادی اَنگریزی : 61 48
53 اَخبار الجامعہ 63 1
54 وفیات 64 1
Flag Counter