ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2012 |
اكستان |
|
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اِرشاد فرماتے ہیں :اِتَّبِعُوْا اٰثَارَنَا وَلَا تَبْتَدِعُوْا فَقَدْ کُفِیْتُمْ۔ ( الاعتصام ج ١ ص ٥٤)''تم ہمارے نقش ِقدم پر چلو اَور نئی نئی بدعات مت اِیجاد کرو کیونکہ دین تمہارے لیے کافی یعنی مکمل کر دیا گیا ہے۔'' اَور حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اِرشاد فرماتے ہیں :کُلُّ عِبَادَةٍ لَّمْ یَتَعَبَّدُھَا اَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہَ وَسَلَّمَ فَلَا تَعْبُدُوْھَا۔( الاعتصام ج ١ ص ١١٣)''ہر وہ عبادت جو صحابہ کرام نے نہیں سر اَنجام دی وہ تم اپنی طرف سے نہ پیدا کرو۔'' بہرحال عبادات کے معاملہ میں قطعاً قیاس نہیں کیا جاسکتا بلکہ جو عبادت جس طرح کی گئی تھی وہ عبادت بالکل اُسی طرح سر اَنجام دینی ہوگی۔ جو عبادت حضور ۖنے اَدا کی ہے وہ اَدا کرنی ہوگی اَور جو آپ نے اَدا نہیں کی وہ عبادت بدعت ہوگی۔ اِس سلسلہ میں چند مثالیں دے کر ہم اِس بات کو واضح کر دیتے ہیں۔ (١) فقہ حنفی کی مشہور کتاب ہدایہ میں ہے :وَیَکْرَہُ اَنْ یُّتَنَفَّلَ بَعْدَ طُلُوْعِ الْفَجْرِ بِاَکْثَرَ مِنْ رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ لِاَنَّہ عَلَیْہِ السَّلَامُ لَمْ یَزِدْ عَلَیْھِمَا مَعَ حِرْصِہ عَلَی الصَّلٰوةِ ۔(ہدایہ ج ١ ص ٥٣) ''صبح صادق کے طلوع ہونے کے بعد دو رکعت سنت فجر کے علاوہ کوئی نفل نماز پڑھنا مکروہ (تحریمی) ہے کیونکہ حضور ۖنے نماز کا اِنتہائی شائق ہونے کے باوجود دَو رکعت سے زیادہ نوافل نہیں پڑھے۔'' (٢) وَلَا یُتَنَفَّلُ فِی الْمُصَلّٰی قَبْلَ صَلَاةِ الْعِیْدِ لِاَنَّ النَّبِیَّ ۖ لَمْ یَفْعَلْ ذٰلِکَ مَعَ حِرْصِہ عَلَی الصَّلٰوةِ ۔ (ہدایہ ج ١ ص ١١٨)