Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2012

اكستان

34 - 65
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اِرشاد فرماتے ہیں  :اِتَّبِعُوْا اٰثَارَنَا وَلَا تَبْتَدِعُوْا فَقَدْ کُفِیْتُمْ۔ ( الاعتصام  ج ١ ص ٥٤)''تم ہمارے نقش ِقدم پر چلو اَور نئی نئی بدعات مت اِیجاد کرو کیونکہ دین تمہارے لیے کافی یعنی مکمل کر دیا گیا ہے۔''
اَور حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اِرشاد فرماتے ہیں  :کُلُّ عِبَادَةٍ لَّمْ یَتَعَبَّدُھَا اَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہَ وَسَلَّمَ فَلَا تَعْبُدُوْھَا۔( الاعتصام  ج ١ ص ١١٣)''ہر وہ عبادت جو صحابہ کرام نے نہیں سر اَنجام دی وہ تم اپنی طرف سے نہ پیدا کرو۔''
بہرحال عبادات کے معاملہ میں قطعاً قیاس نہیں کیا جاسکتا بلکہ جو عبادت جس طرح کی گئی تھی  وہ عبادت بالکل اُسی طرح سر اَنجام دینی ہوگی۔ جو عبادت حضور  ۖنے اَدا کی ہے وہ اَدا کرنی ہوگی اَور جو آپ نے اَدا نہیں کی وہ عبادت بدعت ہوگی۔ اِس سلسلہ میں چند مثالیں دے کر ہم اِس بات کو واضح کر دیتے ہیں۔
(١)  فقہ حنفی کی مشہور کتاب ہدایہ میں ہے  :وَیَکْرَہُ اَنْ یُّتَنَفَّلَ بَعْدَ طُلُوْعِ الْفَجْرِ بِاَکْثَرَ مِنْ رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ لِاَنَّہ عَلَیْہِ السَّلَامُ لَمْ یَزِدْ عَلَیْھِمَا مَعَ حِرْصِہ عَلَی الصَّلٰوةِ ۔(ہدایہ ج ١ ص ٥٣) ''صبح صادق کے طلوع ہونے کے بعد دو رکعت سنت فجر کے علاوہ کوئی نفل نماز پڑھنا مکروہ (تحریمی) ہے کیونکہ حضور  ۖنے نماز کا اِنتہائی شائق ہونے کے باوجود دَو رکعت سے زیادہ نوافل نہیں پڑھے۔''
(٢) وَلَا یُتَنَفَّلُ فِی الْمُصَلّٰی قَبْلَ صَلَاةِ الْعِیْدِ لِاَنَّ النَّبِیَّ ۖ لَمْ یَفْعَلْ ذٰلِکَ مَعَ حِرْصِہ عَلَی الصَّلٰوةِ ۔  (ہدایہ ج  ١ ص ١١٨)
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف اول 4 1
3 درس حديث 6 1
4 اِنسان جیسے' شعور' کے بوجھ سے سب نے اِنکار کر دیا : 8 3
5 عالمی گھڑیاں خدائی نظام کے تابع ہیں : 9 3
6 آخرت میں اللہ کا دیدار نصیب ہوگا : 10 3
7 نبیوں کو ایک دُوسرے پر فضیلت نہ دینے کی حکمت : 10 3
8 ''شریعت'' و'' طریقت'' کا فرق : 14 3
9 طریقت کا کچھ اَور مطلب لینا گمراہی ہے : 15 3
10 ''نسبت'' کیا ہے : 15 3
11 بہت ریاضت کے بعد'' نسبت'' کا حصول ہوتا ہے : 15 3
12 علمی مضامین سلسلہ نمبر ٥١ 17 1
13 عالمی اَورملکی حالات پر دُور اَندیش تبصرہ 17 1
14 ٭ میں نے کہا : قرآنِ پاک میں ہے : 20 13
15 اَنفَاسِ قدسیہ 23 1
16 قطب ِ عالم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمدصاحب مدنی کی خصوصیات 23 15
17 بشارت اَور رُویائے صالحہ : 23 15
18 پردہ کے اَحکام 29 1
19 زِنا اَور لواطت کے حرام ہونے کی وجہ : 29 18
20 لواطت کی حرمت : 30 18
21 پردہ میں بھی بدکاری ہوجانے کی حقیقت : 30 18
22 عورتوں کو پردہ میں رکھنے کی ایک اَور شرعی دَلیل : 31 18
23 عورت کو اَپنے چہرہ کا پردہ کرنا بھی ضروری ہے نیز'' ستر'' اَور'' پردہ'' کا فرق : 32 18
24 مروجہ محفل ِمیلاد 33 1
25 بریلوی حضرات کی قیاس آرائی کا جواب : 33 24
26 قسط : ٤سیرت خلفائے راشدین 39 1
28 اِسلامی صکوک (SUKUK) : تعارف اَورتحفظات 43 1
29 صکوک سے کیا مراد ہے ؟ 44 28
30 مالی دَستاویز کی یہ تعریف 44 28
31 عالمی مجمع فقہ اِسلامی نے صکوک ِمضاربت کی یہ تعریف کی : 45 28
32 مجلس خدمات ِمالیہ اِسلامیہ نے صکوک کی یہ تعریف کی : 46 28
33 (١) صکوک کے موجودات : 46 28
34 (٢) صکوک کے عقود : 46 28
35 (٣) صکوک کا اِصدار : 46 28
36 (٤) حاملینِ صکوک : 46 28
37 (٥) تصفیہ اَور اِطفائے صکوک : 46 28
38 (٦) صکوک کا تداول : 47 28
39 (٧) اِسترداد ِصکوک : 47 28
40 (٨) تصنیف ائتمانی (Credit Rating) : 47 28
41 (٩) سندات و صکوک کے فروخت کرنے کے بازار : 47 28
42 (i) اِبتدائی بازار (Primary Market) : 47 28
43 (ii) ثانوی بازار (Secondary Market) : 47 28
44 صکوک سازی اَور صکوک کی کچھ مزید تفصیل 47 28
45 (١) بِلا واسطہ مالی اَوراق سازی : 48 28
46 (٢) بواسطہ اَثاثہ اَوراق سازی یا صکوک سازی یا تصکیک : 48 28
47 صکوک کی ضرورت اَور فائدے 49 28
48 عربی زبان کی خصوصیات و اِمتیازات 54 1
49 عالمی زبان : 55 48
50 ضرورت کا اِحساس : 56 48
51 مصنوعی زبانیں : 58 48
52 بنیادی اَنگریزی : 61 48
53 اَخبار الجامعہ 63 1
54 وفیات 64 1
Flag Counter