Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی 2011

¾اكستان Ù

59 - 64
محمد اسلم صاحب غوری اَیڈوکیٹ آل پارٹیز کا نفرنس کے تیرویں مقرر تھے، اُن سے پہلے ایم کیو ایم کے حیدر عباس رضوی، اِقبال حیدر، حاجی حنیف طیب، اِمیتاز عالم جیسے سینئر مقررین نے خطابات کیے تھے لیکن کسی کے لیے کوئی ایک تالی نہیں بجی۔ آل پارٹیزکانفرنس میں پہلی تالی اَسلم غوری کی تقریر پر بجی اَور تقریر کے اِختتام پر پورا ہال دیرتک تالیوں سے گونجتا رہا، جبکہ اُن کی تقریر کے دوران بیشتر لیڈر اَور نمائندے اُن کی تائید میں مسلسل سرہلاتے رہے۔ محمد اسلم صاحب غوری کی اِس جرأتمندانہ اَور حقیقت پسندانہ تقریر کے بعد آنے والے مقررین میں سے کسی کو مدارس کے خلاف کھل کر تقریر کرنے کی جرأت نہ ہو سکی۔ 
محمداسلم صاحب صاحب غوری آل پارٹیز کانفرنس کے واحد اَور پہلے مقرر تھے جنہوں نے بلوچستان کی محرومی، وزیرستان کے حالات، ڈرون حملوں اَور شہید علماء کی بات مدلّل اَنداز میں اُٹھائی اَور سیکولراِزم کے علمبرداروں کے اِلزامات کا بھرپور جواب دیا۔ کانفرنس کے اِختتام پر میرحاصل خان بزنجو اَور بلوچستان کے صحافیوں نے بلوچستان کا مسئلہ اُٹھانے پر محمد اسلم صاحب غوری کے پاس جاکر اُن کا شکریہ اَدا کیا، جماعت ِاِسلامی کے ڈاکٹر معراج الہدٰی صدیقی اَور پاکستان کے سُنی اِتحاد کونسل کے حاجی حنیف طیب نے بھی محمد اسلم صاحب غوری کی جرأت مندانہ اَور حقیقت پسندانہ تقریر پر اُنہیں مبارکباد پیس کی اَور کہا کہ آپ نے حق اَدا کیا۔
 جناب محمد اسلم صاحب غوری نے اَخبارات کے اَیڈیٹر زکے اِس نمائندہ اِجلاس میں مدارس، مذہبی طبقات اَور مذہبی جماعتوں کا بھرپور دفاع کرکے نہ صرف جماعت کے وقار میں اِضافہ کیا بلکہ اُن کویہ میسج بھی دیا کہ جے یو آئی کے کارکن باطل کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے ہر جگہ کلمہ حق بلند کرتے رہیں گے۔ 
سی پی این ای کے اِس آل پارٹیز کانفرنس میں پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی سیکرٹری اِطلاعات فوزیہ وہاب، نیشنل پارٹی کے نائب صدر سنیٹر میر حاصل خان بزنجو، روزنامہ ایکسپر یس کراچی کے اَیڈیٹر طاہرنجمی، سی پی این ای کے صدر اَور روزنامہ جناح کے اَیڈیٹر اِن چیف خوشنود علی خان ،سی پی این ای کے جنرل سیکرٹری عامر محمود، سینئر صحافی ڈاکٹر جبار خٹک، جعفری اَلائنس کے شبیررضا، جماعت اِسلامی کے ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی، ٹی وی اینکر اَنیق اَحمد، اے این پی کے یونس بونیری، سندھ پولیس کے ایس ایس پی جاوید اَکبر اَور سینئر صحافیوں، ٹی وی اینکرز، سمال ٹریڈز کے نمائندوں سمیت سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے اَفراد نے شرکت کی۔  
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 درس حديث 6 1
4 مسلمان بادشاہ کا ظلم پھر کفار کا اِن پر غلبہ : 7 3
5 منکرین ِ حدیث کے فرضی اَور بے جان اعتراضات : 7 3
6 فقہ بہت پہلے مدّون ہو چکی تھی : 8 3
7 شیعیت کا اَثر و رُسوخ بہت بعد میں ہوا : 9 3
8 عقلی دلیل اَور مشاہدہ : 9 3
9 شیعیت کی دخل اَندازی سے اَحادیث پاک ہیں : 10 3
10 مظلوم کا مسلمانوں کے معبود کی طرف رُجوع اَور غیبی تائید : 10 3
11 حضرت اِمام رازی کے ساتھ اِن کا سلوک : 11 3
12 نبی علیہ السلام کو رُعب عطا کیا گیا اِس سے آپ نے اِنصاف پھیلایا : 11 3
13 منگولیوں کے جنرل کا حال : 12 3
14 علمی مضامین سلسلہ نمبر٤٣ (قسط : ٥،آخری) 14 1
15 مسئلہ رجم 14 14
16 متفرق مسائل : 14 14
17 شرعی کوڑے : 17 14
18 تابعین کا عمل : 21 14
19 تابعین کا عمل : 21 14
20 اَنفَاسِ قدسیہ 24 1
21 قطب ِ عالم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمدصاحب مدنی کی خصوصیات 24 20
22 مخالفین کے ساتھ : 24 20
23 جنات کے ساتھ : 25 20
24 اِکرامِ ضَیف : 26 20
25 کمیونسٹ لیڈر ڈاکٹر محمد اَشرف صاحب تحریر فرماتے ہیں : 28 20
26 حضرت مولانا قاری شریف اَحمد صاحب رحمة اللہ علیہ 30 1
27 ولی را ولی می شناسد 35 26
28 تربیت ِ اَولاد 36 1
29 اَولاد کی اِصلاح کے لیے صحبت ِصالح کی ضرورت : 36 28
30 شفقت کے مقتضی اَور بیٹے کو نصیحت کرنے کا طریقہ : 36 28
31 اَولاد کی پرورش کرنے اَور نان ونفقہ دینے کا شرعی ضابطہ : 37 28
32 لڑکے اَورلڑکی کی شادی کر نابا پ کے ذمہ واجب ہے یا نہیں تا خیر کرنے سے کتنا گنا ہ ہو گا : 38 28
33 اَب رہ گئی حدیث تو مشکوة شریف باب تعجیل الصلوة میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے : 38 28
34 وفیات 39 1
35 قسط : ٥ حضرت اِمام حسن بن علی رضی اللہ عنہما 40 1
36 آپ نے خلافت فوج کی کمزوری سے چھوڑی یامسلمانوں کی خونریزی سے بچنے کے لیے : 40 35
37 تحفظ ناموسِ رسالت محاذ پر جدو جہد اَور شاندار کامیابی 43 1
38 عاشقِ قرآن حضرت مولاناقاری شریف احمدصاحب 49 1
39 تشدد سے پاک پاکستان ....... تصویر کا دُوسرا رُخ 55 1
40 دینی مسائل 60 1
41 ( وقف کا بیان ) 60 40
42 حق ِقرارسے کیامراد ہے : 60 40
43 وقف کو غصب کرنا : 60 40
44 وقف کو تبدیل کرنا : 61 40
45 وقف کے منافع وقف نہیں ہوتے : 61 40
46 واقف کاتاحیات جائداد کی آمدنی اپنے لیے مقرر کرنا : 62 40
47 کسی جائیداد یا اُس کی آمدنی کو اپنی اَولاد پر وقف کرنا : 62 40
48 اَخبار الجامعہ 63 1
Flag Counter