ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی 2011 |
¾اكستان Ù |
|
'' اَبوالوضیٔ سے روایت ہے کہ تین آدمیوں نے ایک مرد اَور ایک عورت کے بارے میں زِنا کی شہادت دی چوتھے نے کہا کہ میں نے اِن دونوں کو ایک کپڑے میں دیکھاہے تواگر یہ زِنا ہوتاہے تو یہ تو ہوا ہے۔اِس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اِن تینوں کے کوڑے لگائے اَور اُس مردو عورت کو تعزیری سزا دی۔'' اَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ اَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ قَالَ حَدَّثَنِیْ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ عَلِیٍّ اَنَّہ کَانَ اِذَا وَجَدَ الرَّجُلَ وَالْمَرْأَةَ فِیْ ثَوْبٍ وَاحِدٍ جَلَدَھُمَا مِأَةً کُلَّ اِنْسَانٍ مِنْھُمَا ۔ ''حضرت علی رضی اللہ عنہ جب کسی مرد اَور عورت کو (ناجائز) ایک کپڑے میں پاتے تھے تو اُن میں سے ہر ایک کے سو سوکوڑے مارا کرتے تھے۔ '' عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ رَجُلٍ عَنِ الْحَسَنِ اَنَّ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِہ رَجُلًا قَدْ اَغْلَقَ عَلَیْھِمَا وَقَدْ اَرْخٰی عَلَیْھِمَا الْاَسْتَارَ فَجَلَدَھُمَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِئَةً مِئَةً ۔ ''حضرت حسن فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی عورت (بیوی) کے ساتھ ایک اجنبی شخص کو پایا اُس نے اپنا دونوں کا دروازہ بند کرکے پردہ بھی ڈال رکھا تھا ۔اِن دونوں کو حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے سوسو کوڑے لگوائے۔'' عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ بُدَیْلِ الْعُقَیْلِیْ عَنْ اَبِی الْوَضِیِٔ قَالَ شَھِدَ ثَلاثَةُ نَفَرٍ عَلٰی رَجُلٍ وَامْرَأَةٍ بِالزِّنَا وَقَالَ الرَّابِعُ رَأَیْتُھُمَا فِیْ ثَوْبٍ وَاحِدٍ فَاِنْ کَانَ ھٰذَا ھُوَ الزِّنَا فَھُوَذَاکَ فَجَلَدَ عَلَی الثَّلاثَةِ وَعَزَّرَ الرَّجُلَ وَالْمَرْأةَ ۔ ( عَبْدُ الرَّزَّاقِ ص ٤٠١ج ہفتم واَوْرَدَہُ قبل ھذا ایضًا ص ٣٨٥ ) اَبُوالْوَضیء عَنْ عَلِیٍّ ۔۔۔۔ یہ روایت دُوسری سند سے بھی گذر چکی ہے۔ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ قَالَ سَمِعْتُ مَکْحُوْلًا فَحَدَّثَ اَنَّ رَجُلًا وُجِدَ فِیْ بَیْتٍ رَجُلٍ بَعْدَ الْعَتَمَةِ مُلَفَّفًا فِیْ حَصِیْرٍ یَضْرِبُہ عُمَرُ بْنُ