ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2011 |
اكستان |
|
مولانا کی کارگاہِ سیاست ( جناب محمد عرفان صاحب صدیقی،کالم نگار رَوزنامہ جنگ ) مولانا فضل الرحمن کی سیاسی بصیرت، حکمت کاری اَور موسم شناسی کے بارے میں کچھ کہنا سورج کو چراغ دِکھانے کے مترادف ہے۔ وہ جو فارسی والے کہا کرتے ہیں کہ'' مشک آں اَست کہ خود ببوید ،نہ کہ عطار بگوید''کہ مشک وہی ہے جو اپنی خوشبو سے پہچانی جائے نہ کہ عطار کی چرب زبانی سے ۔تو مولانا پر یہ قول پوری طرح صادق آتا ہے کہ وہ عمر کے اعتبار سے اَبھی جوانوں میں ہیں ۔مولانا سمیع الحق تو اِنہیں اپنا شاگرد قرار دیتے ہیں لیکن مولانا فضل الرحمن اِس اعزاز سے اِنکاری ہیں ۔بہر حال ہمارے صف اَوّل کے بیشتر سیاستدان مولانا سے سینئر ہیں ۔اِس کے باوجود یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ مولانا کی سیاسی ہنر آرائی اپنے ہم عصروں سے کوسوں آگے ہے۔ چند صفات اَور خصوصیات ایسی ہیں جو مولانا کو دُوسرے سیاستدانوں سے بہت ممتاز بنادیتی ہیں ۔ پہلی اَور اہم ترین خصوصیت یہ ہے کہ مولانا سیاست کی زمینی حقیقتوں کے بہترین نباض ہیں ۔ کرکٹ میں اُس کپتان کو بڑا با صلاحیت خیا ل کیا جاتا ہے جو کھیل شروع ہونے سے پہلے پچ کو پڑھنے کا سلیقہ رکھتا ہو ۔ ایک نظر ڈالتے ہی و ہ جان جاتا ہے کہ یہ پچ تیزکھیلے گی یا آہستہ ،گیند اُٹھ کر آئے گی یا نیچے رہے گی، مڑے گی تو کس قدر ،کس مرحلے پر اِس کی ٹوٹ پھوٹ شروع ہو جائے گی ۔ پچ کے متوقع روّیے کی بنیاد پر وہ کھیل کی منصوبہ بندی کرتا ہے۔ بالکل اِسی طرح مولانا فضل الرحمن سیاسی پچ پڑھنے میں اَپنا ثانی نہیں رکھتے ۔ اِنتخابات کی بساط بچھتے ہی وہ ایک مکمل زائچہ بنالتے ہیں ۔نتائج سامنے آجائیں تو اُنہیں یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگتی کہ بارگاہِ اِقتدار کا نقشہ کار کیا ہوگا۔پچ پڑھنے کے ساتھ ساتھ اُنہیں یہ اِضافی اِستعداد بھی ودیعت ہوئی ہے کہ وہ آنے والے موسم کے تیور بھی پہلے سے جان جاتے ہیں ۔ اُنہیں خوب علم ہوتا ہے کہ کھیل کے کس موڑ پر یکایک آسمان بادلوں سے ڈھک جائے گا ،کب بجلی کڑکنے لگے گی کب چھاجوں مینہ برسنے لگے گا اَور کب کھیل کے میدان کو تنبوئوں سے ڈھانپ کر میچ کے خاتمے کا اعلان کردیا جائے گا ۔ مولانا کا کمال یہ ہے کہ وہ پیر پگاڑ اکی طرح